menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

سیاسی شطرنج

19 1
29.12.2025

ملک کے حالات حد درجہ ابتر ہیں۔ یہ بات تو ہر وقت سننے میں آتی ہے ۔ حل کیا ہے؟ اس پرکبھی کچھ بھی سننے کو نہیں مل پایا۔ سیاسی میدان میں گزشتہ دہائیوں سے جو کھلواڑ جاری ہے، وہ کسی سے بھی چھپا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ بین الاقوامی میڈیا کے توسط سے زمین کے ہر کونے میں پھیل چکا ہے۔ یہ کسی طرح بھی خوش کن بات نہیں ہے۔ سیاسی انتشار اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ انجام کا سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

ایک مسئلہ اور بھی ہے، حقائق چھپانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ مگر سوشل میڈیا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ صورت حال ایسی ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کم دیکھا جا رہا ہے۔ انگریزی زبان کاایک لفظ لکھوں تو صورت حال وضاحت سے سامنے آ جاتی ہے، Irrelevant۔ ہر ایک نے اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنا رکھا ہے۔انھیں علم ہے کہ اب صرف سوشل میڈیا ہی اہم ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی سرکار کے حامیوں کو سننے اور دیکھنے کے لیے کوئی تیار نہیں ، سیاسی حالات اور ملکی سالمیت‘ آپس میں حد درجہ جڑے ہوئے ہیں۔

پچھلے ہفتہ دو اہم شخصیات سے طویل ملاقات ہوئی ۔ درد دل اور ملک سے محبت کرنے والے افراد ۔ کسی بھی عصبیت کے بغیر ‘ ان کی باتیں سن کر کم از کم ششدر رہ گیا۔ بلوچستان کے متعلق ایک حد درجہ باخبر شخص کہنے لگے کہ اس صوبے میں ایک المناک رجحان پیدا ہو چکا ہے اور ادارے اس سے باخبر ہیں۔ ان کے مطابق سول انتظامی ڈھانچے میں بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ہمدرد موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ حساس معلومات ان تنظیموں تک پہنچ جاتی ہوں گی۔

اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کی بھرپور کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ ادھرکوئٹہ سے جیسے ہی آپ مستونگ کی طرف روانہ ہوتے ہیں، سول حکومت کی طاقت کم سے کم تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ بعض مقامات پر شاہراہوں سے گزرنے والوں سے جبری بھتہ وصول کیا........

© Express News