menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

امن کے دعوے دار کا دہرا کھیل؟

9 1
sunday

دنیا اگر آج کسی ایک لفظ میں بیان کی جاسکتی ہے تو وہ ہے منافقت۔ یہ منافقت سب سے زیادہ اس وقت نمایاں ہوجاتی ہے جب عالمی طاقتیں امن، انسانی حقوق اور جمہوریت کے نعرے بلند کرتی ہیں، مگر عملی طور پر جنگ، مداخلت اور تباہی کا سامان پیدا کرتی ہیں۔

آج دنیا ایک ایسے المیے کی گواہ ہے جہاں امن کے سب سے بڑے دعوے دار خود جنگ کے سب سے بڑے معمار بن چکے ہیں۔ امریکا، جو خود کو عالمی امن کا علمبردار، ثالث اور اخلاقی رہنما کہلوانا پسند کرتا ہے، ایک بار پھر اپنی اصل فطرت کے ساتھ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے۔

حال ہی میں وینزویلا کے دارالحکومت کراکس کے آسمان پر امریکی ہیلی کاپٹروں کی پروازیں اور شہر کے مختلف حصوں میں دھماکوں کی اطلاعات نے دنیا کو چونکا دیا ہے۔ جس کی تصدیق میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ پر ٹرمپ نے وینیزویلا پر حملوں کے حوالے سے کہا کہ وینیزویلا اور اس کی قیادت کیخلاف آپریشن کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران وینیزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو پکڑ کر ملک سے باہر منتقل کردیا گیا ہے۔

یہ مناظر کسی جنگ زدہ ملک کے ہوتے ہیں، نہ کہ اس ریاست کے جسے عالمی سطح پر ’’امن کا سفیر‘‘ بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہو۔ امریکی صدر کی جانب سے ماضی میں بارہا یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان کی خارجہ پالیسی کا محور جنگوں کا خاتمہ اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل ہے، مگر عملی اقدامات ان دعوؤں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

وینزویلا پہلے ہی معاشی پابندیوں، سیاسی عدم استحکام اور اندرونی انتشار کا شکار ہے۔ ایسے میں بیرونی فوجی دباؤ اور عسکری طاقت کا مظاہرہ نہ صرف حالات کو مزید خراب کرتا ہے بلکہ عام شہریوں کی جان و مال کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی خودمختار ریاست........

© Express News (Blog)