Nasal Kashi Se Pehle Yaadasht Kashi
نسل کشی سے پہلے یادداشت کشی
بھارت میں سرکاری و نصابی تاریخ بدلنے کا کام لگ بھگ پایہِ تکمیل تک پہنچ گیا ہے۔ مغل دور نصاب سے چلتا کر دیا گیا ہے۔ ٹیپو سلطان اب آزادی کے ہیرو نہیں رہے۔ بیسیوں چھوٹے بڑے قصبوں اور یادگاروں کے نام بدل دیے گئے۔ (یہ سب کام ہم بہت پہلے کر چکے مگر بھارت اس میدان میں پاکستان کو بھی تیزی سے پیچھے چھوڑ رہا ہے)۔
اب توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر ہے۔ کیونکہ یہ واحد علاقہ ہے جہاں مسلمان آج بھی اکثریت میں ہیں۔ فی الحال عقیدے کے بجائے ان کی شناخت یعنی کشمیریت پر بھرپور علمی وار ہو رہا ہے۔ ایک بار شناخت کمزور ہو جائے تو باقی عمارت ڈھانا بھی آسان ہو جاتا ہے اور اس معاملے میں اسرائیل سب سے بڑا " وشو گرو " ہے جس نے ہر وہ شناخت مٹانے کی پوری کوشش کی جس کا تعلق اسرائیل کی پیدائش سے پہلے سے ہے۔ اسی تجربے کو اب چیلا (مودی سرکار) اپنے ڈھنگ سے برت رہا ہے۔
آپ جانتے ہی ہیں کہ پانچ اگست دو ہزار انیس کو مودی سرکار نے مقبوضہ جموں و کشمیر کا نیم ریاستی آئینی وجود بھی ختم کر دیا اور تب سے اب تک بلدیاتی و ریاستی انتخابات کے باوجود پالیسی ساز ادارہ مرکز کا متعین ایڈمنسٹریٹر اور اس کے مشیر ہیں۔ پولیس براہ راست ایڈمنسٹریٹر کے کنٹرول میں ہے۔
گذشتہ برس اس خادم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں پچیس کتابوں پر پابندی کا احوال آپ تک پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ یہ کتابیں علیحدگی پسندی کے جذبات ابھار کے بھارتی........
