Koi Aur Epstein Kahi Aur Baitha Wohi Kar Raha Hoga
کوئی اور ایپسٹین کہیں بیٹھا وہی کچھ کر رہا ہوگا
اسرائیل سے امریکا کی محبت کا اندازہ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ چالیس روزہ لڑائی میں اسرائیل نے ایرانی میزائل روکنے کے لیے ایک سو نوے ایرو اور ڈیوڈ سلنگ انٹرسیپٹرز استعمال کیے جب کہ امریکا نے اسرائیل کے دفاع کے لیے دو سو سے زائد تھڈ میزائل جھونک دئیے یعنی اپنے تھڈ زخیرے کا پچاس فیصد۔
پھر بھی اسرائیل کی شکر گذاری کا یہ عالم ہے کہ جو نیتن یاہو کل تک جھنڈا اٹھائے گھوم رہا تھا کہ اسرائیل کو آج تک ٹرمپ سے زیادہ محسن امریکی صدر نصیب نہیں ہوا۔ اسی نیتن یاہو کے ساتھی اور اسرائیلی میڈیا اب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ جامع امن سمجھوتے کی کوششوں پر امریکا کی " دھوکہ بازی " کو یہود دشمنی کے ترازو میں تول رہے ہیں۔
تاہم ایک اسرائیلی مبصر کے بقول " ہم نے تو اوباما کا ایران امریکا امن سمجھوتہ اگلے امریکی صدر (ٹرمپِ) کے ہاتھوں دو ہزار اٹھارہ میں پھاڑ کے پھنکوا دیا تو موجودہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کی کیا اوقات ہے۔ یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکے، اس کے لیے اسرائیل ایڑی چوٹی کا زور لگا دے گا "۔
ایسے وقت جب امریکی رائے عامہ اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف پہلی بار اتنا کھل کے بول رہی ہے، امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اسرائیل نواز قلعہ اب بھی خاصا مضبوط ہے۔ صدر ٹرمپ بھلے نیتن یاہو کو جتنی بھی گالیاں دیں جب تک امریکی کانگریس اسرائیل کے ساتھ ہے کوئی مائی کا لال بال بیکا نہیں کر سکتا۔
امریکی کانگریس اسرائیل کی محبت میں یوں بھی غرق ہے کہ ریپبلیکنز ہوں کہ ڈیموکریٹس۔ بیشتر کی انتخابی کامیابی امریکن اسرائیل ایپکس کمیٹی (ایپک) کی طاقت اور ارب پتی صیہون نواز امریکی سرمایہ داروں کے چندے کی مرہونِ منت ہے۔
یہ تو سب جانتے ہیں کہ امریکا اسرائیل کو سالانہ کس قدر فوجی........
