Aalmi Insaf Ke Bharose Na Rehna
بین الاقوامی جرائم کی عالمی عدالت (آئی سی سی) کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے گذشتہ برس مئی میں سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جب نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف آئی سی سی نے جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے وارنٹ جاری کیے تو ایک مغربی رہنما نے مجھ سے کہا کہ آئی سی سی کے قیام کا مقصد افریقی و ایشیائی آمروں اور پوتن جیسے بدمعاشوں کو سبق سکھانا ہے، تم تو ہمارے ہی دوستوں پر چڑھ دوڑے۔ کریم خان نے اس لیڈر کا نام تو نہیں بتایا تاہم اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف وارنٹ جاری ہونے پر کئی " مہذب" مغربی ممالک نے جس شدید ردِ عمل کا اظہار کیا اس سے کم ازکم ان کی منافقت ضرور ایک بار پھر عریاں ہوگئی۔
اگرچہ ہنری کسنجر، جارج بش اور ٹونی بلئیر جیسے کرداروں کے بارے میں انسانی حقوق کے ذمے دار حلقے بارہا کہہ چکے ہیں کہ یہ رہنما عالمی عدالتِ انصاف یا بین الاقوامی جرائم کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کی تمام شرائط پوری کرتے ہیں۔ مگر یہ بات کم از کم اس وقت ناقابلِ تصور ہے کہ کوئی مغربی رہنما عدالت کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
ویسے بھی ان عالمی عدالتوں کے اختیار میں رائے دینا ہے۔ ان کے فیصلوں کے نفاذ کا اختیار اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس ہے جس میں ویٹو طاقتیں بیٹھی ہوئی ہیں۔ یہ عدالتیں جو رولنگز دیتی ہیں ان میں سے اکثر اصل واردات ہونے کے اتنے برس بعد سامنے آتی ہیں کہ دنیا تب تک یہ واقعات بھی بھول چکی ہوتی ہے۔ ایسے بیسیوں مقدمات........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin