menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Nanha

10 8
08.02.2026

ایک نکڑ جو چار گلیوں میں کھلتی اور اس نکڑ پر علی الصبح ننھا اپنی سبزی کی دکان کا شٹر اٹھاتا جس کی آواز آج تک نہ سنی گئی تھی۔ ہر صبح اسکول جاتے اس نکڑ پر ہمیں ننھا اپنی سبزیوں کو نہلا کر جچائے بیٹھا اخبار پڑھتا نظر آتا۔ نکڑ کو مڑتے ہوئے ذہن جوٹ کے ہوادار پردے سے جھانکتی پانی کے قطروں میں شرابور سبزیوں کی مہک کا منتظر ہوتا۔

ننھا کبھی اسکول جاتے ہوئے بچوں کو آنکھ اٹھا کر دیکھ لیتا تو کبھی اپنے اخبار کے صفحوں میں مگن رہتا۔ وہ بچوں کو دیکھ کر نہ کھلکھلاتا نہ چمکارتا مگر پھر کبھی ایسا محسوس نہ ہوتا کہ وہ بچوں کو ناپسند کرتا ہے۔

ننھا سبزیوں کے ساتھ دکان کے عقبی حصے میں ٹافیاں اور بسکٹ بھی بیچنے کے لیے رکھتا جہاں صرف بچے ہی آتے۔ بچے جو ننھے کو سبزیاں تولنے میں لگا دیکھ کر مٹھی بھر ٹافیاں جیبوں میں بھر لیتے۔ ننھے کی اس لاپرواہی نے کئی بچوں کو اپنی زندگی کی پہلی چوری پر اکسایا۔

ننھے کے تین بہن بھائی اور بھی تھے جو دکان کے ساتھ ملحقہ گھر میں رہتے۔ ننھا ان سب سے چھوٹا تھا شاید اسی لیے ننھا نام پڑا ہو گو کے اس کا قد اس نام کی چشم دید گواہی تھا۔ ننھا واقعی میں ایک ننھا گول مٹول سا آدمی تھا۔ ننھے اور اسکے بہن بھائیوں میں سے کسی کی شادی نہ ہوئی تھی۔ دو بہنیں جن کو ہم نے ہمیشہ اپنی امی کی عمر کا دیکھا اور ننھا اور ننھے کا بڑا بھائی ہمیشہ اپنے ابو کی عمر کے لگے۔

ننھے کی ایک بہن کا نام گڈی تھا وہ ننھے کی غیر موجودگی میں دکان پر بیٹھی نظر آتی۔ وہ بچوں کو دیکھ کر ہنس دیا کرتی مگر اسکی ہنسی میں بھی وہ اپنائیت نہ ہوتی جو ننھے کے سپاٹ چہرے........

© Daily Urdu