menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Janab e Fatima Bint e Asad Aur Maulood e Kaaba

11 1
03.01.2026

جنابِ فاطمہ بنتِ اسد حضرت علیؑ کی والدہ گرامی تھیں۔ جنابِ اسدؑ، قیلہ بنتِ عامر کے بطن سے حضرت ہاشمؑ کے فرزند تھے۔ اس لحاظ سے آپ ہاشمؑ کی پوتی اور رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی اور حرمِ حضرتِ ابوطالبؑ ہونے کی بنا پر چچی ہوئیں۔ جب آنحضرتﷺ جنابِ ابوطالبؑ کی کفالت میں آئے تو انہی کی گود پیغمبر ایسے ہادیِ اکبر اور رہنمائے اعظم کی گہوارہِ تربیت بنی اور انہی کی آغوشِ محبّت و شفقت میں پرورش پائی۔ اگر حضرت ابوطالبؑ نے تربیت و نگہداشت میں باپ کے فرائض انجام دیے تو فاطمہ بنتِ اسدؑ نے اسی طرح محبّت و دلسوزی سے دیکھ بھال کی کہ یتیمِ عبداللہ ﷺ کو ماں کی کمی کا احساس نہ ہونے دیا۔

آپ اپنے بچوں سے زیادہ حضورﷺ کا خیال رکھتیں اور ان کے مقابلہ میں اپنی اولاد تک کی پرواہ نہ کرتیں۔ ان کی محبّت و التفات کا یہ عالم تھا کہ جب خرما کے درختوں میں پھل آتا تو صبح تڑکے اٹھ کر خرموں کے پکے ہوئے اور صاف دانے چن کر حضور ﷺ کے لیے علیحدہ رکھ دیتیں اور صبح سرکار ﷺ کی خدمت میں پیش کرتیں اور جب دستر خوان بچھتا تو اس پر سے کچھ کھانا الگ کرکے رکھ دیتیں کہ اگر کسی وقت وہ (حضور ﷺ)کھانا مانگیں تو انہیں دے سکیں۔

پیغمبرِ اکرم بھی انہیں ماں سمجھتے، ماں کہ کر پکارتے اور ماں ہی کی طرح عزت و احترام کرتے تھے، چنانچہ ان کی شفقت و محبّت کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا: "ابو طالبؑ کے بعد اُن سے زیادہ کوئی مجھ پر شفیق و مہربان نہیں تھا"۔ (الالستیعاب ج 2)

آنحضرت ﷺ اُن کی مادرانہ شفقت و نظرِ محبّت سے اتنا متاثر تھے کہ منصبِ رسالت پر فائز ہونے کے بعد اپنے فرائضِ منصبی سے وقت نکالتے، اُن کے ہاں آتے اور اکثر دوپہر کے اوقات انہی کے ہاں گزارتے۔ ابنِ سعد نے لکھا ہے: "رسول اللہ ﷺ آپ کی زیارت کو آتے اور دوپہر کو انہی کے ہاں استراحت فرماتے"۔ (طبقات، ج8)

آپ کے بطن سے ابوطالبؑ کی سات اولادیں ہوئیں جن میں تین صاحبزادیاں تھیں: ریطہ، جمانہ اور فاختہ جو اُمِّ ہانی کی کنیت سے معروف ہیں اور چار صاحبزادے تھے: طالب، عقیل، جعفرؑ اور علیؑ۔ طالب عقیل سے دس سال بڑے تھے اور عقیل جعفر سے دس سال بڑے تھے اور جعفرؑ حضرت........

© Daily Urdu