Islamabad Airport Par Sakardu Ka Nojawan Jora
بسوں کے اڈے ہوں، ریلوے اسٹیشینز ہوں یا ائرپورٹس ہر جگہ کی اپنی الگ اور دلچسپ زندگی ہوتی ہے۔ ہر بندہ آپ کو حرکت میں نظر آتا ہے۔ اگر کہیں خاموش بیٹھا انتظار بھی کررہا ہے تو اس کی کرسی پر بیٹھے ٹانگیں اور آنکھیں حرکت کررہی ہوتی ہیں۔
برسوں پہلے بس اسٹاپ پر انتظار تک کا تجربہ تھا جو پھر ریلوے اسٹیشن تو اب کبھی کبھار ائرپورٹ کا ہوجاتا ہے۔ میں ریلوے اسٹیشن اور ائرپورٹ پر بک شاپ کی ضرور وزٹ کرتا ہوں چاہے قومی ہو یا عالمی کیونکہ میرے خیال میں وہاں سب سے بہترین بکس ملتی ہیں۔ بک شاپ اونر کو علم ہے کہ اسٹیشن یا ائرپورٹ خصوصا پر موجود مسافر کو جہاز لاونج میں جانے کی جلدی ہے چاہے وہاں وہ ایک گھنٹا ہی انتظار کیوں نہ کرے وہ خود کو محفوظ سمجھتا ہے کہ فلائٹ مس نہیں ہوگی۔ لہذا اس کے پاس چاہے دو گھنٹے فلائٹ روانہ ہونے میں پڑے ہوں وہ پھر بھی گیٹ پر پہنچ کر انتظار کرے گا یا کہیں قریب کیفے پر بیٹھے گا۔
اس کے پاس زیادہ سے زیادہ پانچ سے دس منٹ بک شاپ کے لیے ہیں اگر وہ بک لور ہے۔ اس کم وقت میں بک لورز بہت کم کتاب خرید پاتے ہیں کیونکہ انہوں نے کتاب ہمیشہ وقت لگا کر خریدنی ہوتی ہے۔ وہ پہلے کتاب کا سرورق، عنوان، بیک کور پڑھے گا۔ کچھ دلچسپی لگے گی تو تعارف یا عنوانات پڑھے گا اور پھر خریدنے کا فیصلہ کرے........
