Naye Subon Ke Qayam Ki Behas, Magar?
نئے صوبوں کے قیام کی بحث، مگر؟
پاکستان اس وقت بے شمار سیاسی، انتظامی اور معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ جب بھی ملک میں اختیارات کی غیر منصفانہ تقسیم، وسائل کی کمی، یا پسماندہ علاقوں کی محرومیوں کا ذکر ہوتا ہے تو نئے انتظامی یونٹس بنانے کی آوازیں بلند ہونے لگتی ہیں۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور، سرائیکی وسیب، کراچی اور دیگر خطوں سے وقتاً فوقتاً الگ صوبوں کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبوں کا قیام واقعی عوام کے مسائل کا حل ہے، یا یہ محض ایک سیاسی نعرہ ہے؟
ریاستیں صرف سرحدوں سے مضبوط نہیں ہوتیں۔ بلکہ انصاف، مؤثر حکمرانی اور عوامی اعتماد سے طاقت حاصل کرتی ہیں۔ اگر انتظامی ڈھانچہ اتنا وسیع ہو جائے کہ گورننس عوام تک نہ پہنچ سکے تو ترقی کا سفر سست پڑ جاتا ہے۔ پاکستان کے بعض صوبے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے دنیا کے کئی ممالک سے بڑے ہیں۔ ایسے میں ایک ہی صوبائی حکومت کے لیے دور دراز علاقوں کے مسائل پر یکساں توجہ دینا ایک مشکل امر بن جاتا ہے۔ جب انتظامی اکائیاں چھوٹی ہوں گی تو عوام کو سرکاری دفاتر، عدالتوں، اسپتالوں اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی آسان ہوگی۔ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی بہتر ہوگی، مقامی ضروریات کے مطابق پالیسیاں بن سکیں گی اور پسماندہ علاقوں کو اپنے وسائل پر زیادہ اختیار حاصل ہوگا۔
دنیا کے کئی ممالک میں انتظامی تقسیم کو بہتر حکمرانی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے،........
