Muzakrat Ke Doosre Daur Ki Kamyabi Ki Dua
مذاکرات کے دوسرے دَور کی کامیابی کی دعا
ریاست کے دائمی اداروں میں بیٹھے افسران یا طاقتور سیاستدان آزاد منش صحافیوں کو بالعموم ناپسند کرتے ہیں۔ لوگوں میں ان کی مقبولیت ذہن میں رکھتے ہوئے اگرچہ کبھی کبھار انہیں رشوت اور مراعات سے نہیں بلکہ خبروں تک رسائی فراہم کرتے ہوئے خوش رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ وطن عزیز کی سرکار اور سیاستدانوں نے عرصہ ہوا سرپرستی یا معاونت کا یہ رویہ ترک کررکھا ہے۔ واٹس ایپ کے ذریعے "خبریں " دے کر کام چلایا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ صحافی کو منشی بنادینے کی وجہ سے ریاستی بیانیہ لوگوں تک مؤثر انداز میں پہنچ نہیں پارہا۔ صحافی بھی اپنی وقعت ووقار تباہ کر بیٹھے ہیں۔
پاکستانی صحافیوں کی وقعت اور ساکھ کی تباہی آج کے کالم کا مگر موضوع نہیں۔ محض ایک حالیہ تجربہ تفصیل سے بیان کرنا ہے جس نے مجھے احساس دلایا کہ صحافت کو اگر برداشت کرلیا جائے تو خیر کی خبر ہی ملتی ہے۔ گزرے ہفتے کے اختتامی دنوں میں ایک مہینے کی خونخوار جنگ کے بعد امریکہ اور ایران نے اسلام آباد میں بیٹھ کر دیرپاامن کی راہ ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ 21 گھنٹوں تک پھیلے مذاکرات مگر کسی حتمی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام ر ہے۔ اتوار کی صبح ہوتے ہی امریکی نائب صدر نے مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے وطن لوٹنے کا اعلان کردیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے مذاکرات کی ناکامی نے دنیا بھر کے دردمند افراد کے دل دہلادئے۔ بطور پاکستانی میرے دل کا اضطراب بے پناہ مہنگائی اور بے روزگاری کے خوف سے بے قابو ہونا شروع ہوگیا۔ تشخیص ہوئی دوائیوں کے علاوہ نیند یقینی بنانے کے لئے خواب آور گولیوں کی مقدار بڑھانا پڑی۔ ادویات سے دل سنبھالتے ہوئے بھی عقل مگر یہ سوچتے ہوئے تسلی فراہم کرتی رہی کہ اگر امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات قطعاََ ناکام ہوگئے ہوتے تو ایران میں جنگ بندی بھی ختم ہوجاتی۔ ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات یقینی بنانے کے لئے امریکی صدر نے 21 اپریل تک جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ مذکورہ جنگ بندی اسلام آباد میں ہوئے مذاکرات ناکام ہونے کے باوجود برقرار رہی۔ فقط اس ایک نکتے نے مجھے یہ نتیجہ اخذ کرنے کو مجبور کیا کہ جنگ بندی کے تسلسل کی خواہش امریکہ اور ایران کے مابین مذا کرات کا ایک اور رائونڈ ممکن بناسکتی ہے۔
مذاکرات کے ایک اور رائونڈ کے بارے میں پرامید ہونے کے بعد ذہن کو اس سوال نے تنگ کرنا شروع کردیا کہ ممکنہ رائونڈ کونسی تاریخ تک ہوسکتا ہے۔ مذاکرات کے دوسرے رائونڈ کی تاریخ زائچہ نویسوں کی طرح ڈھونڈتے ہوئے میں ستاروں اور سیاروں کی چال پر انحصار کرنہیں سکتا تھا۔ محض رپورٹر کا تجربہ بروئے کار لاتے ہوئے یاد آیا کہ امریکی صدر نے اسلام آباد میں ہوئے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کردیا ہے۔
مذکورہ ناکہ بندی سے قبل مگر اس نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ دنیا کے جو ممالک ایران کا تیل خریدنا چاہیں وہ 19اپریل تک اسے خرید سکتے ہیں۔ اُس تاریخ کی بدولت بھارت اور چین کو ایرانی تیل کی ترسیل ناکہ بندی کے اعلان کے باوجود جاری رہی۔ ہمارے میڈیا میں اگرچہ یہ تاثر پھیلایا جاتا رہا کہ بحری ناکہ بندی کے اعلان کے باوجود امریکہ چین اور بھارت کی جانب رواں ایرانی تیل سے لدے جہازوں کو روکنے میں (خوف کے مارے) ناکام ہورہا ہے۔ یہ حقیقت بھلادی گئی کہ 19اپریل تک ایرانی تیل خریدنے کی مہلت ابھی تک برقرار ہے۔
ایرانی تیل کی خریداری کے لئے 19اپریل تک کی مہلت نے مجھے یہ سوچنے کو اکسایا کہ اگر ایران اور امریکہ کے مابین دیرپاامن کی تلاش کے لئے مذاکرات کا ایک اور دور ہونا ہے تو اسے مذکورہ تاریخ سے قبل ہونا چاہیے۔ زائچہ نویسوں کی طرح موبائل اٹھاکر کیلنڈر پر غور کیا تو احساس ہوا کہ 18اور 19اپریل کو ہفتے اور اتوار کے دن ہوں گے۔ ان دودنوں میں بین الاقوامی مارکیٹس بند ہوتی ہیں۔ امریکہ اور ایران بین الاقوامی منڈی کو اگر کوئی مثبت پیغام دینا چاہ رہے ہیں تو انہیں ویک اینڈ کی تعطیلات سے قبل مذاکرات کا آغاز کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے جمعرات اور جمعہ کے دن مجھے مناسب ترین نظر آئے (اپریل کی 16اور 17)۔ صرف کیلنڈردیکھتے ہوئے قیافہ شناسی کی مشق نے سوشل میڈیا کے ایکس پلیٹ فارم پر اشاروں کنایوں میں منگل کی رات سونے سے قبل جمعرات 16اپریل کا ذکر کرنے کا حوصلہ دیا۔
قیاس آرائی کی ٹھوس بنیادوں اور کیلنڈرپر زائچہ نویسوں جیسی توجہ کے علاوہ ایک اورحقیقت نے بھی مزید سوچنے کو مجبور کیا۔ نیویارک کا 1801ء سے شائع ہونے والا ایک قدیم اخبار ہے۔ نام ہے اس کا نیویارک پوسٹ۔ عوام میں بطور NY Postجانا جاتا ہے۔ یہ اخبار ان دنوں ٹرمپ خاندان اور قدامت پسند ری پبلکن جماعت کے قریب ترین تصور ہوتے مرڈک (Murdoch) خاندان کی ملکیت ہے۔ صدر ٹرمپ کے چہیتے فوکس ٹی وی کوبھی یہ خاندان چلاتا ہے۔ NY Postکے لئے خارجہ اور دفاعی امور کے بارے میں سب سے مستند اور معروف رپورٹر کیٹلن ڈورنبوس (Caitlin Doornbos)تصور ہوتی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات پر نگاہ رکھنے کیلئے وہ امریکی نائب صدر کے ہمراہ اسلام آباد تشریف لائیں اور اسی ہوٹل میں قیام کیا جہاں امریکی اور ایرانی وفود بھی موجود تھے۔
جے ڈی وینس کے مذاکرات میں ناکامی کے اعلان کے بعد وہ مگر اسلام آباد ہی میں قیام پذیر رہیں۔ امریکی وفد کے وطن لوٹ جانے کے بعد اس ملک کے رپورٹر کا اسلام آباد میں موجود رہنا اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ کیٹلن ڈورنبوس مگر کوئی عام صحافی نہیں۔ NY Postکی رپورٹر ہونے سے قبل وہ امریکی فوج کے ترجمان رسالے سے وابستہ تھی۔ امریکی فوج کی مدد سے وہ کئی جنگوں کی برسرِ میدان حرب جاکر رپورٹنگ کرتی رہی ہیں۔ پاکستان میں قیام کے دوران موصوفہ نے میرے دو ہنر مند ساتھیوں -طلعت حسین اور فہد حسین- کے ٹی وی پروگراموں میں بھی حصہ لیا۔ میں نے وہ پروگرام تو نہیں دیکھے لیکن سوشل میڈیا پر ان کے کلپ دیکھے تو اچانک خیال آیا کہ کیٹلن ڈورنبوس اسلام آباد ہی میں کیوں ٹکی ہوئی ہے۔
اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے میں نے وزارت خارجہ کے ایک درمیانے درجے کے افسر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ موصوف امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے دوران معاونین میں شامل تھے۔ ان سے فقط یہ استفسار کیا کہ کیٹلن کی موجودگی اس بات کا عندیہ تو نہیں کہ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کا ایک اور دور ہونے والا ہے؟ موصوف نے میر ے سوال کو احمقانہ قرار نہ دیا۔ اس کی تصدیق سے مگر یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ "مجھے علم نہیں۔ آپ خود ایک تجربہ کار صحافی ہیں۔ نکتہ سے نکتہ ملاکر نتائج حاصل کرلیتے ہیں "۔ ان سے گفتگو کے بعد میں نے ایک اور متحرک ساتھی سے رابطہ کیا۔ موصوف نے اطلاع دی کہ اسے ایران کے چند صحافی بتارہے ہیں کہ 21اپریل سے قبل ا یران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کا ایک اور دور ممکن ہے۔ امریکہ بھی اس کیلئے رضا مند ہے۔ یہ راؤنڈ کس شہر میں ہو اس پر لیکن اتفاق نہیں ہورہا۔
امریکہ کی خواہش ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور جنیوا یا استنبول میں ہو۔ ایرانی مگر اسلام آباد ہی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ قیافہ شناسی کے بعد ان دو افراد سے گفتگو نے مجھے یہ نتیجہ اخذ کرنے کو اُکسایا کہ امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا ایک اور دور جمعرات یا جمعہ کے دن سے اسلام آباد ہی میں شروع ہوسکتا ہے۔ اس سوچ کا ڈھٹائی سے اظہار کردیا تو منگل کی شام ٹرمپ نے کیٹلن ڈورنبوس کو ٹیلی فون کیا۔ اسے پاکستان ہی میں رکنے کا مشورہ دیتے ہوئے بہت بڑی خبر دے دی۔ میرا تّکا لگ گیا۔ ربِّ کریم سے مگر فریاد ہے کہ مذاکرات کے دوسرے دور کو کروڑوں انسانوں کو بھوک، بے روزگاری اور مہنگائی سے بچانے کے لئے کامیاب بنائے۔
