Mera Kolkata Ka Akhri Safar
میرا کلکتہ کا آخری سفر
1984ء کے دوران ہوئے بھارتی بنگال کے سفر کی جویادیں ابھی تک اس کالم میں قلم بند کی ہیں وہ بہت خوش گوار تھیں۔ ان بھلے وقتوں کو اجاگر کرتی رہیں جب لوگوں کی اکثریت سادہ، شفیق اور بنیادی طورپر انسان دوست تھی۔ کلکتہ میں قیام کے ان ہی دنوں میں ناقابل برداشت غربت کو ڈرامائی انداز میں عیاں کرتے دو ایسے مناظر بھی دیکھے جو آج بھی ذہن میں آئیں تو ماتھے پر پسینہ آجاتا ہے۔
پہلا منظر ایک بڑے بازار میں دیکھا۔ وہاں ماواڑی سیٹھ تھوک کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کے گوداموں میں سامان ر کھنے اور وہاں سے اشیاء نکالنے کے لئے انسانوں اور جانوروں کی کھینچی گاڑیاں ٹرین کے ڈبوں کی صورت مسلسل حرکت میں تھیں۔ دوپہر کا سورج دماغ بھنارہا تھا۔ بے تحاشتہ انسانوں اور سامان اٹھانے والی گاڑیوں کے اس ہجوم میں سڑک کے اس پار ایک سرکاری نل کے قریب کامل ننگی پشت کے ساتھ 55سے 60سال کے درمیان عمر والی ایک عورت بیٹھی تھی۔ اکڑوں بیٹھی اس عورت نے اپنا جسم ٹانگیں کاندھوں سے لگاکر"چھپا" رکھا تھا۔
بازار کی بے ہنگم ٹریفک سے قطعاََ بے نیاز وہ عورت اپنی ساڑھی کو تیز پانی کے نیچے رکھ کر بار بار رگڑرہی تھی۔ بغیر صابن کے صرف پانی کے بہائو سے ساڑھی میں جمع ہوئی میل نکال رہی تھی۔ سینکڑوں افراد پر مشتمل ہجوم اس کی موجودگی سے قطعاََ بے خبر اور بے نیاز تھا۔ میں لیکن سڑک کی دوسری جانب ایک کونے میں کھڑا ہوکر اس کی حرکات کا جائزہ لیتا رہا۔ غربت کے روبرو ایسی بے بسی میرے لئے قطعاََ انوکھی تھی۔ تھوڑی دیر بعد مگر اپنے تماشائی ہونے پر ندامت محسوس ہوئی۔ گھبرا کر ایک آٹو رکشہ کو ہاتھ دکھاکر روکا........
