Mazeed Aag Bharkane Ka Baais Banta Housion Ka Agla Jarihana Qadam
مزید آگ بھڑکانے کا باعث بنتا حوثیوں کا اگلا جارحانہ قدم
دن کے 24گھنٹے مجھے اور آپ کو باخبر رکھنے کے دعوے دار ٹی وی چینلوں کے بعد دنیا کی اکثریت اب موبائل فونز کے ذریعے "علم" حاصل کررہی ہے۔ ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارموں کی بدولت پھیلائی خبروں سے گماں ہوتا ہے کہ یمن نام کا کوئی ملک ہے جس پر حوثی باغیوں نے قبضہ کررکھا ہے۔ یہ باغی ایران کے حلیف ہیں۔ وسیع تر حوالوں سے بلکہ اس ملک کے محض "کارندے" یا (Proxies) ہیں۔ ایران کو جب بھی اپنے مخالفین کو دیوار سے لگانا ہو تو وہ حوثیوں کو متحرک ہونے کا حکم دیتا ہے۔ ایران کی تسلی کے لئے وہ یمن کی پہاڑیوں سے یمن کے ساحل کے قریب باب المندسے گزرنے والے بحری جہازوں پر میزائل اچھالنا شروع ہوجاتے ہیں۔
حوثیوں کے بارے میں مشہور ہوئی کہانی کے برعکس رواں برس کے مارچ سے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ اور جنگ بندی کے باوجود جاری رہی چپقلش سے وہ حیران کن حد تک کنارہ کش رہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا حق ملکیت اجاگر کرنا چاہا تو اس کے خلیج میں سب سے بڑے حریف سعودی عرب نے نہایت بردباری اور خاموشی سے آبنائے ہرمز کے متبادل راستے استعمال کرنا شروع کردئے۔ سعودی عرب کی پٹرول اور گیس کے حوالے سے تیار کردہ مختلف النوع برآمدات کا 70فی صد حصہ اب بحر ہند کے پانیوں تک پہنچنے کے لئے آبنائے ہرمز کا محتاج نہیں رہا۔ وہاں کے مشرقی علاقوں میں پیدا ہوئے تیل کو پائپ لائنوں کے ذریعے سعودی عرب کے جنوبی شہر یعنوب پہنچایا جاتا ہے۔ یعنوب کی بندرگاہ پر کھڑے جہاز وہاں سے تیل لادکر یمن کا رخ کرتے ہیں اور اس کے طویل ساحل سے گزرتے ہوئے بحرہند کے گہرے پانیوں میں داخل ہوجاتے ہیں۔ حوثیوں نے اس تجارت میں رخنہ ڈالنے کے........
