menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kahin Aur Muntaqil Hua Taqat Ka Sarchashma

23 0
13.05.2026

کہیں اور منتقل ہوا "طاقت کا سرچشمہ"

پیر کی رات تین بجے تک بستر میں سونے کے بجائے بے چینی سے کروٹیں لیتا رہا۔ میری پریشانی کی وجہ کوئی طبی مسئلہ نہیں تھا۔ فشارِ خون پر قابو کے علاوہ طبیبوں کی تجویز کردہ اعصاب کو پُرسکون رکھنے والی گولی بھی کھا رکھی تھی۔ ذہن کو مگر سکون میسر نہ تھا۔ لیپ ٹاپ بند کرنے کے بعد کپڑے بدل کر بستر میں گھسا تو ایک ایسے نمبر سے کال آگئی جو میرے موبائل میں محفوظ نہیں تھا۔ نامعلوم نمبروں سے آئے فون لینے سے گریز کی عادت اپنارکھی ہے۔ رات کا آغاز مگر ایسے نمبر سے آئی کال لینے کو مجبور کردیتا ہے۔ خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ کوئی عزیز یا مہربان دوست مشکل کی گھڑی میں گرفتار ہے۔ اس کے فون سے رابطے کے بجائے کسی اور فون کے ذریعے مجھ تک پہنچنے کی کوشش ہورہی ہوگی۔

بہرحال فون اٹھایا تو دوسری جانب سے تصدیق چاہی گئی کہ میں نصرت جاوید ہی بات کررہا ہوں۔ میں نے ہاں میں جواب دیا تو دوسری جانب سے لئے گہرے سانس نے پیغام دیا کہ ایک بڑی مہم سرکرلی گئی ہے۔ مجھ سے رابطہ کرنے والے مہربان کا تعلق منڈی بہاالدین کے نواحی قصبے سے تھا۔ نوائے وقت کے دیرینہ قاری ہیں۔ اسے نیٹ پر نہیں ہاکر سے خرید کر پڑھتے ہیں۔ میرے چند کالموں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اپنی یادداشت کے بارے میں حیران کردینے کے علاوہ یہ پیغام بھی دیا کہ مجھ قلم گھسیٹ کو وہ نہایت غور سے پڑھتے ہیں۔

مجھ سے ذہنی قربت کے اظہار کے بعد نہایت جذباتی آواز میں انہوں نے میرے پیر کی صبح چھپے کالم کو سراہا۔ مذکورہ کالم میں گزرے جمعہ کی رات پٹرول کی قیمت میں 15روپے اضافے کا ذکر ہوا تھا۔ جو اضافہ ہوا وہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کا حقیقی عکاس نہیں تھا۔ پٹرول کی فروخت پر لیوی تھی جسے میں نے بھتہ قرار دیا جو حکومتِ پاکستان ہمارے خوشحال طبقات پر واجب ٹیکس وصول کرنے میں ناکامی کے بعد آئی........

© Daily Urdu