menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dharno Kemuqabil Riyasat Ki Khaal Moti Hone Ka Paigham

24 0
09.09.2026

دھرنوں کے مقابل ریاست کی کھال موٹی ہونے کا پیغام

پیر کی رات سونے سے قبل تازہ ترین خبروں کے لئے سوشل میڈیا کے کوچے میں گھوم رہا تھا تو نیند کے جھونکوں نے مضمحل بنادیا۔ لیپ ٹاپ بند کرنے ہی والا تھا تو حکومت کے جاری کردہ ایک نو ٹی فکیشن پر نظر پڑ گئی۔ پٹرول کی قیمت میں 12روپے 90 پیسے اضافے کا اعلان تھا۔ اسے دیکھتے ہی نیند کیا ہوش ہی اڑ گئے۔ گزرے ہفتے کے آخری دنوں سے اپنے ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے لئے مطلوبہ دستاویز جمع کررہا تھا۔ انہیں دیکھ کر جھٹکا لگا۔

آمدنی ہرگز نہیں بڑھی تھی۔ گھریلو اخراجات میں اضافے کے علاو ہ طبی مسائل سے جڑے خرچے عزت سے مرنے کے لئے بچائی رقم میں بھی نقب لگانا شروع ہوچکے تھے۔ غیر یقینی مستقبل کے خوف کے باوجود مجرموں کی طرح ایسی دستاویز جمع کرنے میں مصروف رہا جو حاکموں کو یقین دلائے کہ میں اپنی آمدنی پر واجب ٹیکس باقاعدگی سے ادا کررہا ہوں۔ انہیں جمع کرتے ہوئے مستقل یہ خیال آتا ہے کہ عمر کے جس حصے میں داخل ہوچکا ہوں وہاں برسوں سے ٹیکس گزار ہوتے ہوئے چند سہولتوں کا مستحق ہونا چاہیے تھا۔ کوئی ایک بھی لیکن میسر نہیں۔

تین دن قبل بین الاقوامی طورپر مستند مانی ایک ریسرچ کمپنی کی تحقیق نظرسے گزری تھی۔ اس کے مطابق سات پاکستانیوں میں سے فقط ایک فرد ملکی معیشت کے بارے میں مطمئن محسوس کررہا ہے۔ فقط چار ماہ قبل چارمیں سے ایک شخص پرامید بتایا گیا تھا۔ چار مہینوں میں مستحکم معیشت کی امید کم کرنے کی وجوہات میں سرفہرست ایران اور امریکہ کی جنگ بتائی گئی۔ اس کی وجہ سے ہمارے ہاں درآمد ہوئے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا تو روزمرہ ضرورت کی اشیاء کے نرخ بھی بڑھ گئے۔ افراطِ زر میں مزید اضافے کی ایک اہم وجہ بجلی کی قیمتیں بھی........

© Daily Urdu