Qaumi Cricket Team, Pasand o Na Pasand Ki Bheent
کرکٹ اگچہ قومی تو نہیں مگر ملک کا سب سے مقبول ترین کھیل ہے جو قومی کھیل سے بھی کئی گنا زیادہ دیکھی اور کھیلی جاتی ہے جس سے نوجوان نسل نشےاور دیگر غیرضروری نقصان دہ چیزوں سے بچ جاتے ہیں۔ اگرچہ تعلیم چھوڑ کر مستقل اس شعبےکو اپنانے کا بھی میں بھی حامی نہیں البتہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اسے اگر جاری رکھا جائے تو شاید کوئی مضائقہ نہیں۔
ہم نے بھی 90 کی دہائی میں اچھی خاصی کرکٹ کھیلی ہے مگر اسے مستقل زندگی کا حصہ نہیں بنایا۔ لڑکپن کا وقت ایسا ہوتا ہے کہ اگر جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ ذھنی سکون کے لئے اگر اس میں خود کو مصروف نہ رکھا جائے تو نتیجتا انسان بےراہ روی کا شکار ہوجاتا ہے پھر کچھ یہ طمع بھی ہوتی ہے کہ خوب کرکٹ کھیل کر اپنے آپ کو غیرمعمولی صلاحیتوں کا مالک سمجھ کر قومی کرکٹ ٹیم میں شمولیت کا جذبہ بیدار رہتا ہے لیکن پریشانی کا عالم یہ ہے کہ ملک کے اس مقبول ترین کھیل کو دیکھ کر پاکستان کرکٹ ٹیم اس وقت ایک عجیب مخمصے کا شکار ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک طویل عرصے سے پاکستان کرکٹ ٹیم بنائی نہیں جا رہی بلکہ بگاڑی جا رہی ہے۔ اس زوال کی بنیاد سب سے پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری سے پڑتی ہے۔ بدقسمتی سے اکثر ایسا شخص چیئرمین بنا دیا جاتا ہے جس کا کرکٹ سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا، نہ اسے کرکٹ کے تقاضوں کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی اس کھیل کے مزاج اور باریکیوں سے وہ واقف ہوتا ہے۔
یہی صورتحال صرف چیئرمین تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے بعد سلیکشن کمیٹیوں اور دیگر اسٹاف کی تقرریوں میں بھی شاذ و نادر ہی ایسے افراد نظر آتے ہیں جو خود کرکٹر رہ چکے ہوں یا جنہیں کرکٹ کی عملی سمجھ بوجھ حاصل ہو۔ زیادہ تر وہ افراد سامنے آ جاتے ہیں جو کرکٹ کے رموز سے ناواقف ہوتے ہیں، مگر طاقت کے مراکز کے قریب ہونے کی وجہ سے اہم عہدوں پر فائز........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin