Kamar Tor Mehangai, Awam Ko Relief Kab Milega?
کمر توڑ مہنگائی، عوام کو ریلیف کب ملے گا؟
کمر توڑ مہنگائی نے غریب عوام کی زندگی اس حد تک اجیرن کر دی ہے کہ اب بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی بھی ایک ناممکن خواب بن کر رہ گئی ہے۔ ایک طرف اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں مسلسل آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، تو دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کے متواتر اضافے اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والی گرانی نے ملک بھر میں تعمیراتی سلسلے کو بھی بالکل روک کر رکھ دیا ہے۔ سریا، سیمنٹ اور دیگر تمام تعمیراتی مٹیریل کی قیمتیں تقریباً دگنی ہو چکی ہیں، جس کے باعث عوام شدید مالی بدحالی، ذہنی تناؤ اور بے پناہ پریشانی کا شکار ہو چکے ہیں۔
حکومت کی جانب سے سو روپے فی لیٹر پٹرول ریلیف کا جو اعلان کیا گیا ہے، وہ اپنی جگہ ایک اقدام سہی، لیکن یہ سہولت بھی صرف اور صرف موٹر سائیکل اور آٹھ سو سی سی انجن والی گاڑیوں کے مالک افراد تک محدود رکھی گئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف فیول کی مد میں یہ محدود ریلیف دینے سے مہنگائی کے مجموعی اور بھیانک اثرات ختم ہو سکتے ہیں اور پھر ان بے شمار لوگوں کا کیا بنے گا جنہیں یہ ریلیف بھی نہیں مل رہا ان پر تو گویا دگنا عذاب نازل ہو چکا ہے۔ اگر پٹرول کی اس ریلیف کی بات کی جائے، تو اس سے صرف پٹرول کی حد تک تو موٹر سائیکل یا آٹھ سو سی سی والوں کو سو روپے کی بچت مل جائے گی، لیکن کیا اس ایک اقدام سے باقی تمام روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں کم ہو جائیں گی ایسا بالکل اور ہرگز نہیں ہے۔
اگر ہم کھانے پینے کی بنیادی اشیاء کا جائزہ لیں،........
