menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Husn Ki Devi, Wadi e Ghizer Gilgit Baltistan

12 1
01.01.2026

جگلوٹ کے حسین و دل فریب گاؤں برماس سے جدا ہوتے وقت دل عجیب اداسی سے بھرا ہوا تھا۔ یہی کیفیت ہمارے شفیق میزبان مجاہد بھائی کی بھی تھی۔ ان کی التجا کرتی آنکھیں صاف بتا رہی تھیں کہ وہ ہمیں مزید کچھ دن اپنی خدمت کا موقع دینا چاہتے ہیں اور انہوں نے یہ بات زبان سے بھی کہہ دی مگر چونکہ ہمارا اگلا سفر طے تھا، اس لیے فجر کی نماز کے فوراً بعد دیسی انڈوں، خالص مکھن اور گرم گرم پراٹھوں پر مشتمل پیٹ بھر کر ناشتہ کیا اور رختِ سفر باندھ لیا۔

جگلوٹ بازار سے نکلتے ہی کچھ فاصلے پر تین عظیم پہاڑی سلسلوں کوہِ ہمالیہ، کوہِ ہندوکش اور کوہِ قراقرم کا سنگم نظر آتا ہے یہاں ایک سڑک دائیں جانب حسین پہاڑوں اور بہتے دریاؤں کی وادی اسکردو کی طرف جاتی ہے، مگر ہم نے سیدھا گلگت شہر کا رخ کیا۔

گلگت شہر اگرچہ رقبے میں چھوٹا ہے، مگر حسن اور کشش میں کسی بڑے شہر سے کم نہیں۔ چھوٹے چھوٹے بازار، دلکش ہوٹل اور خوبصورت رہائشی آبادیاں اسے ایک پیارا شہر بناتی ہیں۔ شہر کے اندر گھومتے ہوئے ہم بائیں جانب مڑے، جہاں مضافاتی علاقے میں سرسبز درختوں سے گھرے گاؤں کے درمیان سے ایک سڑک نکلتی ہے۔ یہی گلگت تا چترال روڈ کا ابتدائی حصہ تھا اور حقیقت یہ ہے کہ چترال تک یہی واحد زمینی راستہ ہے۔ اس کے علاوہ دائیں بائیں کسی سڑک کا وجود نہیں۔

کچھ دیر سفر کے بعد رحمتِ خداوندی برسنے لگی۔ موسم نہایت سہانا اور سرد ہوگیا۔ راستے میں ایک خوبصورت سا چائے کا ڈھابہ نظر آیا جہاں کئی خاندان پہلے ہی رکے........

© Daily Urdu