Aalami Halaat Ke Zimmedar Kon?
عالمی حالات کے ذمہ دار کون؟
یہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جا رہی۔ یہ ہمارے گھروں، معیشتوں اور مستقبل پر لڑی جا رہی ہے۔ آپ محفوظ نہیں ہیں، بلکہ کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے خدشات زیرِ گردش ہیں اور بین الاقوامی قوانین و اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاسداری محض کاغذی حد تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔
اکیسویں صدی کے اس جدید دور میں، جہاں ایک انسانی جان بچانے کے لیے دنیا کے تمام وسائل جھونک دیے جاتے ہیں، وہاں صرف ایک ماہ کی جنگ میں دو ہزار سے زائد عام انسان ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں دو سو چالیس خواتین اور دو سو بارہ بچے شامل ہیں۔ تیس ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہیں، جبکہ پچاس لاکھ لوگ اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔
مہنگائی ہر دروازے پر دستک دے رہی ہے اور توانائی کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہیں، جس سے زندگی کے تمام معاملات متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں اسکولز، دفاتر اور مارکیٹیں بند ہیں اور دنیا کے تمام انسان اس جنگ کے حالیہ اور دیرپا اثرات سہنے پر مجبور ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر ان تمام حالات کے ذمہ دار کون ہیں؟ کیا یہ کہنا درست ہے کہ چند عالمی رہنما ہی ان تمام حالات کے ذمہ دار ہیں؟ کیا واقعی اگر قیادت مختلف ہوتی تو یہ جنگ نہ ہوتی؟ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ کوئی اور ہوتا تو وہ یہ جنگ کبھی نہ لڑتا؟ یا ممکن ہے کہ حالات اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آتے؟ کیا افغانستان، عراق، شام، لیبیا اور ویتنام کی جنگوں کے ذمہ دار بھی یہی افراد تھے؟
فریڈرک نطشے کہتے ہیں کہ اگر غربت ختم کرنی ہو تو محض وقتی مالی مدد دینے کے بجائے ان اسباب کو ختم کیا جائے جو انسان کو اس حالت میں جینے پر مجبور کرتے ہیں۔ چندہ اور خیرات سے غریب پیشہ ور گداگر تو بن سکتا ہے، مگر اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح، شخصیات کو کوسنے کے بجائے ان عوامل کی اصلاح ضروری ہے جو ایسی شخصیات کو آگے آنے کا موقع دیتے ہیں۔
یہ ایک اہم حقیقت ہے کہ دنیا میں امن، خوشحالی اور ترقی کی کنجی خود انسانوں کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ دنیا کے جابر حکمرانوں کو عوام ہی اقتدار میں لاتے ہیں۔ آپ، میں اور ہم جیسے لوگوں کے ووٹ انہیں اقتدار تک پہنچاتے ہیں۔۔ اگر کہیں بادشاہت یا ڈکٹیٹرشپ ہے تو وہ بھی عوام کی خاموشی یا بے حسی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ یعنی کسی حد تک ہم خود بھی ذمہ دار ہیں۔
عوام کو اکثر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ نمائندے عوامی رائے سے منتخب ہوئے ہیں اور ان کے فیصلے بھی عوامی تائید کے حامل ہیں۔ مگر کیا حقیقت ہمیشہ ایسی ہی ہوتی ہے؟ انتخابی وعدے کچھ اور ہوتے ہیں اور عملی سیاست کچھ اور۔
خیر ہے سلطانیِ جمہور کا غوغا کہ شر؟ تو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے باخبر
معروف امریکی مفکر فرانسس فوکویاما اپنی کتاب The End of History and the Last Man "تاریخ کا خاتمہ اور آخری آدمی" میں کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے ارتقائی مراحل طے کرنے کے بعد آخری حد تک پہنچ چکی ہے اور لبرل جمہوریت کے بعد کوئی بہتر نظام ممکن نہیں۔ تاہم یہ بات مکمل طور پر قابلِ قبول نہیں لگتی، کیونکہ ماضی میں کارل مارکس نے بھی اشتراکیت کو آخری نظام قرار دیا تھا، مگر تاریخ نے اس تصور کو رد کر دیا۔ یہ درست ہے کہ آمریت کے مقابلے میں جمہوریت ایک بہتر نظام ہے اور اس نے انسان کو دیگر نظاموں کے مقابلے میں زیادہ آزادی دی ہے۔ لیکن جمہوریت کوئی مثالی نظام نہیں۔ اس میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے اور شاید مستقبل میں کوئی بہتر نظام سامنے آئے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ عوام سیاست میں محض تماشائی بننے کے بجائے بھرپور اور شعوری حصہ لیں اور اپنے مستقبل کے فیصلے خود کریں۔ جان ڈیوی کے مطابق، شہریوں کی غیر شمولیت سیاسی قوتوں کو بلا روک ٹوک کام کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے، جس کے نتیجے میں طاقت کا توازن متاثر ہوتا ہے۔ اگر آپ سیاست میں دلچسپی نہیں لیتے، تو سیاست آپ میں دلچسپی لینے لگتی ہے اور خود ہی آپ کے مستقبل کے فیصلے کرنے لگتی ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ جمہوریت کو محض ایک رسمی نظام سمجھنے کے بجائے اس کے عملی تقاضوں کو سمجھا جائے۔ چند افراد کو فیصلہ سازی کا اختیار دے کر خود کو غیر متعلق سمجھ لینا مسئلے کا حل نہیں۔ ایک فعال اور باخبر عوام ہی نہ صرف اپنے حقوق کا تحفظ کر سکتی ہے بلکہ ایک ذمہ دار اور متوازن سیاسی نظام کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہی طرزِ عمل آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل اور عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔
اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے مشرق و مغرب میں تیرے دَور کا آغاز ہے
