menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pak Bharat Back Door Diplomacy

19 0
15.05.2026

پاک بھارت بیک ڈور ڈپلومیسی

برصغیر کی سیاست ہمیشہ سے ظاہری سفارت کاری اور پردۂ خفا میں جاری رابطہ کاری کے درمیان ایک پیچیدہ توازن کی اسیر رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بھی اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہیں جہاں کھلے مذاکرات کی ناکامی کے بعد اکثر اوقات غیر اعلانیہ رابطوں، پسِ پردہ سفارتی اشاروں اور غیر رسمی چینلز کے ذریعے تناؤ کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ موجودہ مباحث میں بھی ایک بار پھر یہی سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا واقعی دونوں ممالک کے درمیان کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی جاری ہے یا یہ محض میڈیا کے تخلیق کردہ ایک ایسے بیانیے کی صورت ہے جس کا مقصد داخلی اور خارجی سیاسی فضا کو مخصوص سمت دینا ہے۔

حالیہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی، بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) منوج نروانے اور آر ایس ایس کے سیکریٹری جنرل دتاتریہ ہوسبالے کے بیانات نے اس بحث کو نئی جہت عطا کی ہے۔ ان بیانات میں اگرچہ مختلف زاویے اور سیاسی پس منظر کارفرما ہیں، تاہم ایک مشترک نکتہ نمایاں ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بیانیہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ دونوں ریاستوں کے درمیان کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچنے کے باوجود مکمل سفارتی تعطل ایک دیرپا آپشن نہیں ہو سکتا۔

تاہم دوسری جانب پاکستان کے بعض سابق سرکاری افسران اور سفارتی حلقوں کی جانب سے ان خبروں کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے اور اسے محض ایک منظم اطلاعاتی یا پروپیگنڈا مہم کا حصہ قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد خطے میں سفارتی ابہام پیدا کرنا اور داخلی رائے عامہ کو........

© Daily Urdu