menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sitam Zada Murree Ki Dastan

14 22
wednesday

کل سوشل میڈیا پہ ایک اشتہار نما خبر دیکھی، جس میں مری کے مضافات میں دو سو کنال رقبہ پہ ایک اور فائیو سٹار ہوٹل اور اپارٹمنٹس پروجیکٹ کی تعمیر کی "خوشخبری" سنی۔ دل سے پھر ایک آہ نکلی!

پاکستان میں چند ہی مقامات ہیں جو قدرتی طور پر ضلع مری کی طرح دلفریب ہیں۔ مگر یہ حسن اپنی جگہ لیکن کبھی خوبصورتی کی علامت قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 51 پر مشتمل یہ کہسار اب زخم خوردہ ہیں اور عرصہ دراز سے موقع پرستوں اور سرمایہ کاروں کی ستم ظریفیوں کا شکار ہیں۔ کبھی اس خطے کی چوٹیاں اور وادیاں دیار، چیڑھ اور کیل کے جنگلات سے ڈھکی ہوتی تھیں اور سبز سمندر کی مانند لہراتی تھیں، بادل جو ان چوٹیوں کے دامن میں بسیرا کرکے جب چھٹتے تھے تو ہر سو پھیلا شاداب سبزہ آنکھوں کو تر کرتا تھا۔ جو مسافر پہلی بار اسے دور سے دیکھتے، وہ عموماً انگشت بدنداں ہوتے۔

مری کی اصل پہچان اس کی وہ تاریخ تھی جو آج بھی کہیں کہیں سسک رہی ہے۔ ٹرینٹی چرچ، مال روڈ مری پر شام ڈھلے ٹہلتے خاندان، جی پی او مری کے سامنے لگے خطوط اور پوسٹ کارڈز اور سیسل ہوٹل مری کی بالکونیوں سے نظر آتا دھند میں لپٹا پہاڑی منظر، یہ سب مری کی اجتماعی یادداشت کا حصہ تھے۔ یہ محض عمارتیں نہیں تھیں بلکہ ایک تہذیبی تسلسل، ایک سلیقہ اور انسان و فطرت کے درمیان قائم ایک خاموش معاہدہ تھیں۔ یہاں سیاح آتے تو شور مچانے نہیں، خود کو دھند، خاموشی اور سبزہ کے سپرد کرنے آتے تھے۔ آج انہی مقامات کے اردگرد بے ہنگم شور، بدنما تعمیرات اور تجارتی ہوس نے اس تاریخی رومان کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے اور مری کی روح آہستہ آہستہ کنکریٹ تلے دفن ہوتی جا رہی ہے۔

انگریز دور میں جبر تھا مگر قانون تھا۔ پھر آزادی ملی، تقریباََ تین دہائیوں تک تو عمارات کی تعمیر کے لئے انگریز کا ہی ماسٹر پلان........

© Daily Urdu