menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Moscow Se Makka (8)

13 19
25.12.2025

جب میں تقریباََ سب کے بعد ساتویں منزل پر کمرہ نمبر 715 میں پہنچا تھا تو دل دھک کرکے رہ گیا تھا۔ ایک لمبوترے کمرے میں دیوراوں کے ساتھ چھ بیڈ رکھے ہوئے تھے سامان رکھنے کی جگہ نہیں تھی۔ کمرہ تھا کہ "بلیک ہول"۔ دو چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں تھیں جن کو واقعی سیاہ رنگ کیا گیا تھا۔ کھڑکیاں کھلی تھیں اور باہر سے ٹریفک کا شور اندر آ رہا تھا۔ کھڑکیوں کے ساتھ والا بستر اور دروازے کے ساتھ والا بستر خالی تھے۔ میں نے اپنے ساتھ آنے والے ہوٹل کے باریش سیاہ فام ملازم سے کہا تھا کہ کھڑکی کے ساتھ والے بستر پہ چادر بچھا دو۔ اس نے چادر بچھائی تھی، تکیے پہ غلاف چڑھایا تھا اور بس۔ میں نے کہا تھا کہ کمبل کے نیچے لگانے کی خاطر چادر؟ تو بولا، ما فی، یعنی ندارم۔ میں نیچے چلا گیا تھا اور احتجاج کیا تھا۔ بالآخر عارف نے، جو روسی بولنے والا عرب تھا، ایک چادر دلوا دی تھی۔ میں نے رشید کو بس اتنا ہی کہا تھا کہ بھائی میں حج تک صبر کرتا ہوں کیونکہ کرنا ہی ہوگا لیکن اس کے فورا" بعد پہلی پرواز میں مجھے بھجوانے کا بندوبست کر دینا۔ ظاہر ہے میں نے جھلا کر یہ بات کہی تھی۔ انہوں نے اچھا کہہ کر نظریں جھکا لی تھیں۔ لگتا تھا کہ وہ بھی تھک چکے ہیں۔

کمروں کے بارے میں شکایات سن سن کر وہ بھی اس قدر جھنجھلا گئے تھے کہ انہوں نے کسی کو فون کرکے کہا تھا کہ علی شیر، حیدر بلکہ سب یہاں پہنچو۔ علی شیر وہی لمبا اور لحیم نوجوان تھا جس کے بارے میں مجھے ماسکو میں بتایا گیا تھا کہ وہ کمپنی "سلوٹس" کا ڈائریکٹرجنرل ہے۔ مجھے نماز جمعہ کے بعد تاریخی مسجد کے باہر اس سے ملوایا گیا تھا۔ میں نے پوچھا تھا کہ ہوٹل میں تولیہ تو ملے گا ناں؟ تو اس نے جواب دیا تھا کہ کیا پتہ، حج کا موقع ہے، تولیہ اپنے ساتھ لے ہی جانا۔

یہ فقرہ بھی رشید حضرت نے لوگوں کو خاموش کرائے جانے کی خاطر ہی کہا ہوگا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ کل سے لوگ عبادات میں مصروف ہو جائیں گے اور بس۔ واپس کمرے میں آیا تو ماگومید بھی بھٹک بھٹکا کر پہنچ چکا تھا اور دروازے کے سامنے بستر پہ بیٹھا پھٹی پھٹی نگاہوں سے خلا میں گھور رہا تھا۔ چار افراد بستروں پہ لیٹے کسمسا رہے تھے۔ میں نے کھڑکیاں بند کرکے اے سی چلا دیا تھا۔ لیٹے ہوئے لوگوں نے فورا" کمبل یوں لپیٹ لیے تھے جیسے انہیں سرد جہنم میں پھینکا جانے کو ہے۔ ڈیڑھ دو گھنٹہ ہی لیٹے اور سوئے ہونگے کہ فجر کی نماز کے لیے اٹھنا پڑا تھا۔ نماز ہوٹل کی لابی کے ساتھ نماز کے لیے مخصوص ہال میں باجماعت پڑھی تھی۔ نماز کے بعد طے ہوگیا تھا کہ ہم لوگ عمرہ کرنے 9 بجے روانہ ہونگے۔ ہم میں سے اکثر نے "حج تمتع" کا انتخاب کیا تھا اور چند لوگوں نے "حج قران" کا۔ حج تمتع میں عمرہ کے بعد احرام کھول دیا جاتا ہے اور حج قران میں عمرہ اور حج کا احرام ایک ہی ہوتا ہے۔ نماز کے بعد پہلی منزل پہ ایک ہال میں ناشتہ دیا جانا شروع ہو چکا تھا۔ چھوٹے قدوں والے بچوں جیسے لڑکے ناشتہ بانٹ رہے تھے۔ میں نے پوچھا تھا کہ یہ بچے کیوں کام کر رہے ہیں اور مذاق میں کہہ دیا تھا کہ کیا میں پولیس کو بلا لوں تو ایک اردو بولنے والے نسبتا" بڑی عمر کے لڑکے نے کہا تھا کہ بلالیں وہ کچھ بھی نہیں کہیں گے۔ یہ سب لڑکے برما کے مسلمانوں کے بچے تھے جو یہیں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنا ملک دیکھا تک نہیں تھا۔ بس میں کھجوریں اور پانی بانٹنے والا بچہ اور اب یہ بچے۔ پتہ یہ چلا تھا کہ چھٹیاں ہیں اس لیے بچے کام کر سکتے ہیں۔ ایک خوش حال ملک میں بچوں........

© Daily Urdu