menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Moscow Se Makka (14)

18 0
05.01.2026

مولانا صاحب جھنجھلا کر بولے تھے تو ہمیں تم ہی بتادو کہ طواف کی غایت کیا ہے۔ عرض کیا تھا کہ دنیا کی ہر چیز چاہے وہ الیکٹرون جیسا مہین ترین ذرہ ہو یا کہکشاں جتنی بڑی شے۔ خلیے کی جزئیات ہوں یا زمیں، چاند اور سورج، سب ہی اپنے مرکز کے گرد گھومتے ہیں اور گھومتے بھی گھڑی کی مخالف سمت میں ہیں ویسے ہی جیسے کعبے کا طواف کیا جاتا ہے۔ کعبہ چونکہ وحدانیت کا مرکز ہے اس لیے ہم بھی وحدانیت کے اقرار اور اس سے وابستگی کے اظہار میں اس کے گرد گھومتے ہیں۔ مولوی صاحب مطمئن تو شاید ہی ہوئے ہوں لیکن چونکہ مولویت کو زد پڑ رہی تھی اس لیے گویا ہوئے۔ ممکن ہے آپ کی کہی بات درست ہو لیکن ایسی باتیں نہیں کیا کرتے اس طرح "کیافر" ہو جاؤ گے (تاتار ہر ثانوی الف کے ساتھ یے لگا دیتے ہیں جیسے حلال کو حلیال کر دیتے ہیں۔ ہم سے تو اچھے ہی ہیں کہ ہم روس کے صدر پوتن کو انگریزی زبان کے پوٹن میں یے ملا کر پیوٹن لکھتے ہیں۔ آج تک سمجھ نہیں آیا کہ یہ یے کہاں سے آ گئی۔ بی یو ٹی بٹ اور پی یو ٹی پٹ تو ہے بیوٹ یا پیوٹ نہیں۔ خیر)۔ میں بولا تھا، بھائی صاحب! میں اتنا خرچ کرکے یہ سب برداشت کرتا ہوا حج کر رہا ہوں اور آپ مجھے کافر بنانے چلے ہیں۔

تھوڑی دیر میں دیکھا تو قربان منہ میں مسواک گھماتے ہوئے دانتوں سے اتری کثافت پی رہا تھا۔ روس کے یہ تازہ مسلمان ایسی بہت سی حرکتیں کرتے ہیں۔ میں نے اسے کہا تھا کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ بیچارہ حیران ہو کر بولا تھا دیکھتے نہیں مسواک کر رہا ہوں۔ میں نے کہا تھا کہ کیوں کر رہے ہو؟ فرمایا کہ سنّت ہے۔ ارے عقل کے کورے! فرض کرلو (فرض کرنا ظاہر ہے سمجھانے کی خاطر ہوتا ہے) کہ پیغمبر آج مبعوث ہوئے ہوتے تو کیا وہ ٹوتھ پیسٹ نہ کرتے۔ کہنے لگا کیوں نہ کرتے۔ تو تم یہ ٹوائلٹ کا عمل سب کے سامنے کیوں کر رہے ہو؟ بولا سنّت ہے۔ "قربان! محمد ﷺ دنیا کے نفیس ترین انسان تھے۔ وہ سب کے سامنے اگر ایسا کرتے بھی تھے تو وہ لوگوں کو حفظان صحت اور ظہارت و نظافت کی جانب راغب کرنے کے لیے کرتے ہونگے"۔ اس نے مجھے یوں دیکھا تھا جیسے میں کفر بک رہا ہوں۔ بڑبڑا کر کہا تھا کہ تم کچھ بھی نہیں مانتے۔ میں نے کہا تھا کہ میں قرآن و سنت کو مانتا ہوں لیکن ایسی حرکتوں سے........

© Daily Urdu