menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Shayari, Asool e Fiqh, Mabaad Tabeeat Aur Irfan

26 36
18.02.2026

شاعری، اصول فقہ، مابعدالطبیعات اور عرفان

سائنس، فلسفہ اور مذہب میں بنیادی ترین حیثیت نظری عقل (theoretical reason) کی ہے۔ ان تینوں کے باہمی علمی امتیازات جو وضعی (formal) ہیں وہ بھی نظری عقل کے پیدا کردہ ہیں۔ نظری عقل کی فطری فعلیت اور وضعی تعینات کے بغیر، سائنس، فلسفہ اور مذہب کی معنویت باقی نہیں رکھی جا سکتی اور کلاسیکل علم الکلام کے تناظر میں، مسلمانوں کا بنیادی تہذیبی تجربہ بھی یہی ہے۔ عصر حاضر میں مسلم اہلِ علم میں سائنس کی نفرت، مابعدالطبیعات کی للک اور تجدد کا ہوکا عین اسی نظری عقل کی مرگِ مطلق کے بعد ظاہر ہوا ہے۔ سائنس کی نفرت مسلمانوں میں نکبت تامہ کا باعث ہے، مابعدالطبیعاتی اشغال ان کے عقیدے کو فنا کر چکے ہیں اور تجدد نے شریعت کو ادھیڑ دیا ہے۔

شہود میں ہدایت روشنی ہے اور نظری عقل بینائی اور روشنی کا ادراک بینائی کے بغیر ممکن نہیں۔ مسلم اہلِ علم میں نظری عقل کی موت کے بعد، ان کی ہر طرح کی علمی اور فکری کارگزاری محض صوابدیدی تعبیرات میں باقی رہ گئی ہے جو ناگزیر طور پر مابعدالطبیعات (metaphysics)، جدید باطنیت (Gnosis/Esotericism) اور تجدد (religious modernism) میں ظاہر ہوتی ہیں۔ نظری عقل کے تناظر میں، مابعدالطبیعات، جدید باطنیت اور تجدد ایک ہی بنیاد پر قابلِ رد اور قابل مذمت ہیں کیونکہ نظری عقل کی موت کے بعد تعبیرات کے بھی کوئی معنی باقی نہیں رہتے۔ نظری عقل کی موت کے الم میں مذہبی آدمی کی تعبیرات جنون کا شکار ہو جاتی ہیں اور مابعدالطبیعات اور/یا تجدد کے "شاہکار" سامنے آتے ہیں۔

ہمارے ہاں اصول اور مبادی کے الفاظ تقریباً ہم معنی برتے جاتے ہیں۔ زیربحث موضوع کے ابلاغ کے لیے ان میں پہلے سے موجود امتیازات کو پھیلایا جا سکتا ہے کیونکہ علم اصول سازی اور مبادی کی دستیابی کے بغیر دیوانے کا خواب ہے۔ اصول وضعی (formal) اور تشکیلی ہوتے ہیں اور نظری عقل کا بنیادی وظیفہ انھی کے ذریعے کام کرنا ہے۔ لہٰذا، اصول اولاً نظری عقل کا مسئلہ ہے۔ مبادی عموماً عطائی (given) ہوتے ہیں، اس لیے یہ کہنا قرین صواب ہے کہ مبادی ہرمینیاتی عقل کا اثاث البیت اور شرطِ بدایت ہے۔

علمی سرگرمیوں میں اتنی آزادی یقیناً ہوتی ہے کہ پہلے سے متعین معنی کو چھیڑے بغیر ان کی تحدید یا توسیع کے ساتھ ان کو برتا جائے۔ نظری عقل اپنے خود وضع کردہ نظامِ استدلال میں رہتے ہوئے اپنے معروض کا علم حاصل کرنے کے لیے جو بنیادی مقدمات قائم کرتی ہے وہ اصول کہلاتے ہیں۔ اصول بیک آن ہمیشہ جامعاتی (inclusive) اور مانعاتی (exclusive) ہوتے ہیں۔ نظری عقل اپنی آفاقیت (universality) کے بغیر اور اصول ایک معروف اور مشترک نظام استدلال کے بغیر قطعی لغویات ہیں۔ مبادی عطائی (given) ہیں اور نظری عقل کے حاصلات نہیں ہوتے اور نہ ہو سکتے ہیں۔

نظری عقل اور ہرمینیاتی عقل کے بنیادی فروق کی وجہ سے ان کے حاصلاتِ علم کی شرائطِ قیام بھی بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ نظری علوم میں دلیل کسی شے کے ہونے اور نہ ہونے کے حصر میں کام کرتی ہے اور ثبوتی یا سلبی ہوتی ہے۔ علم الکلام اسی نظری عقل کا دائرہ کار ہے کیونکہ اس میں بنیادی بحث وجود کے........

© Daily Urdu