menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kaahe Ki Mubarakbad?

15 21
28.12.2025

"دو کلو وزن فالتو ہے، اس کے چارجز ادا کرنے ہوں گے"۔

ایئر لائن اسٹاف نے کہا۔ "ہم تین لوگ اکٹھے چیک ان کر رہے ہیں، باقی دو کے وزن میں کافی گنجائش ہے"۔

ایئر لائن اسٹاف نے وضاحت کی "جی نہیں، ہمارا۔ اصول انفرادی وزن لمٹ ہے۔ " ہم نے باکس واپس اٹھایا، وزن برابر کرنے کے لیے کچھ چیزوں کو ہمراہی کے باکس میں منتقل کیا اور سامان کلیئر کرایا۔

ترکی کے ایک ایئرپورٹ پر اندرون ملک کی فلائٹ کے اس واقعے سے ہمیں اپنے ملک کی موجیں یاد آئیں، جب پی آئی اے کاؤنٹر اسٹاف چار کلو زائد وزن پر مسافر سے ڈیمانڈ کرتے کہ فالتو وزن کا کرایہ دیں یا وزن کم کریں۔

اکثر مسافروں کو اس بات پر ایئر لائن عملے کو شرمندہ کرتے دیکھا کہ چار کلو ہی کی تو بات ہے! اس کے علاوہ درجنوں بار دیکھا کہ باقاعدہ منظم طریقے سے فالتو وزن لے جانے والے انٹرنیشنل مسافر کسی سفارش کا بندوبست کرتے کہ چیک ان کے وقت فالتو وزن بخیر و خوبی بغیر کسی اضافی چارجز کے کلیئر ہو جائے۔

یہ دو رخ کامیاب کمرشل ائر لائن اور پی ائی اے کے زوال کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں۔

یہ تو ٹھہرے ہم ایسے عام لوگ لیکن خاص اور اشرافیہ کے مزے ہی کچھ اور دیکھے، فری ٹکٹس، مختص وی آئی پی سیٹیں، فالتو وزن پر کوئی پوچھ گچھ نہیں، حتیٰ کہ اعلیٰ ترین عہدے دار اپنے یا اپنے کسی دوست کے لیے تاخیر کی صورت میں پوری فلائٹ روکنے کے استحقاق پر فخر کرتے دیکھے۔

پی آئی اے کے 70 سالہ قیام میں گزشتہ 30 /40 سالوں کے دوران سیاسی مداخلت، انتظامی بد انتظامی، مالیاتی بد انتظامی........

© Daily Urdu