Aik Aur Mushkil Saal, 2026
اب یہ ایک سالانہ رسم سی ہے کہ میڈیا اور تھنک ٹینک ادارے گزرے سال میں کیا کھویا کیا پایا پر عرق ریزی کرتے ہیں۔ اس رسم کے دوسرے حصے کے طور پر نئے سال میں کیا کھونے اور پانے کے امکانات ہیں پر سر کھپاتے ہیں۔ سال کے آخری اور نئے سال کے ابتدائی دنوں میں یہ غلغلہ رہتا ہے، اس کے بعد خلق خدا پھر سے اپنی لگی بندھی روٹین میں جت جاتی ہے یعنی صبح کرنا شام کا۔۔
ورلڈ اکنامک فورم ایک معروف عالمی تھینک ٹینک ہے۔ اس کی حالیہ عالمی رسک رپورٹ 2026 نئے سال سے جڑے خدشات اور امکانات پر مبنی ایسی ہی ایک قابل غور دستاویز یے۔ نئے سال پر منڈلاتے خطرات کا نچوڑ یہ ہے کہ انسانیت اب ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اس کے اپنے بنائے ہوئے ٹیکنالوجی، معیشت اور سیاست پر مشتمل نظام خود اس کے لیے چیلنج بن چکے ہیں۔ اس سلسے کے تین اہم ترین نکات کچھ یوں بیان ہوئے ہیں:
1۔ ڈیجیٹل انتشار: سچائی کے بعد کا دور (Post-Truth Era)
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر 2026 کا سب سے بڑا خطرہ نہ تو کوئی وبا ہے اور نہ ہی اقتصادی کساد بازاری، بلکہ 'غلط معلومات اور ڈس انفارمیشن' ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے بے لگام پھیلاؤ نے پروپیگنڈے کو ایک ایسی طاقت دے دی ہے جو بہت سے ملکوں کے اندرونی خلفشار کو ہوا دے رہی ہے۔
ڈیپ فیکس (Deepfakes) اور الگورتھم کی بنیاد پر پھیلائی جانے والی نفرتوں نے عالمی اور کئی صورتوں میں ملکی سطح پر سماجی فضا کو تیزی سے متاثر کیا ہے۔ جیسے جیسے دنیا کا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر انحصار بڑھ ہے، منظم سائبر حملے بھی بڑھ رہے ہیں۔
2۔ ماحولیاتی........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin