Sohail Afridi Ka Akhri Jalsa
وہ جنرل کے سامنے بیٹھا، تھوڑی دیر دائیں بائیں دیکھا اور پھر خشک لہجے میں پوچھا "آپ مارشل لاء کب اٹھا رہے ہیں؟" جنرل صاحب یہ سن کر حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگے اور پھر وقت کا دھارا بدلتا چلا گیا، وہ کون تھا، اس کا نام محمد خان جونیجو تھا اور جنرل صاحب تھے فاتح افغانستان جنرل ضیاء الحق اور سن تھا 1985ء، دنیا کے ہر آمر کا ایک آنے کا دن ہوتا ہے اور ایک جانے کا، جنرل ضیاء الحق اس دن آنا شروع ہو گئے تھے جس دن ذوالفقار علی بھٹو نے دو تہائی اکثریت کے لیے قبل از وقت الیکشن کا فیصلہ کیا تھا اورجنرل ضیاء کی رخصتی کا سفر اس وقت شروع ہوگیا تھا جب امریکی صدر ریگن نے انہیں یونیفارم اتار کر سویلین صدر بننے کا مشورہ دیا۔
جنرل ضیاء الحق ذہین انسان تھے، وہ امریکی نبض پڑھ لیتے تھے، انہیں اس دن محسوس ہوگیا مجھے اب آمریت کو جمہوریت کا برقعہ پہنانا ہوگا چناں چہ انہوں نے 1984ء میں اپنے "باس" کی تلاش شروع کر دی، پیر صاحب پگاڑا شریف جنرل ضیاء کے بہت قریب تھے، انہوں نے انہیں اپنا مرید محمد خان جونیجو دے دیا، جونیجو صاحب سانگھڑ کے علاقے سندھڑی کے درمیانے درجے کے زمین دار تھے، کیمبرج یونیورسٹی اور برٹش انسٹی ٹیوٹ آف ایگری کلچر سے فارغ الحتصیل تھے۔
پرانے سیاست دان بھی تھے لیکن شکل و صورت اور چال ڈھال سے کم زور اور مسکین دکھائی دیتے تھے، سیاست میں ان کا کوئی دھڑا بھی نہیں تھا، لوگ ان کے نام سے بھی واقف نہیں تھے، ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور میں ان کو ٹھیک ٹھاک رگڑا لگایا تھا جس کی وجہ سے یہ سیاست سے تائب ہو گئے تھے، جنرل ضیاء نے اقتدار میں آنے کے بعد انہیں 1978ء میں ریلوے کا وزیر بنادیا لہٰذا یہ جنرل صاحب کو اپنا محسن سمجھتے تھے۔
پاکستان کی تاریخ ہے ہمارے ہر طاقتور جنرل نے ہمیشہ ایک ایسے کم زور وزیراعظم کا انتخاب کیا جو فائلیں پڑھے بغیر ان پر سائن کر دے اور انہیں ایکسٹینشن پر ایکسٹینشن دیتا چلا جائے اور دوسری طرف ہر وزیراعظم ایک ایسا کم زور آرمی چیف تلاش کرتا رہا جو اپنے لالچ میں اسے برداشت کرتا رہے اور اس کی تمام خامیوں اور حماقتوں پر خاموش رہے چناں چہ وزیراعظم اور آرمی چیف دونوں ہر دور میں "سوٹ ایبل باس" تلاش کرتے رہے اور اس تلاش میں ملک کا بیڑا غرق ہوگیا۔
جنرل ضیاء الحق بھی ایک ایسا ہی سوٹ ایبل باس........
