menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Persepolis

21 19
08.01.2026

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے، یہ نام اسے یونانیوں نے دیا، وہ ایران کو پرش (پرشیا) کہتے تھے جب کہ ایرانی اس علاقے کو تخت جمشید لکھتے اور پکارتے رہے، یہ ان کے لیے آج بھی تخت جمشید ہے، جمشید فردوسی کے شاہ نامہ کا ایک اساطیری بادشاہ تھا جس کے پاس ایک ایسا پیالہ (جم) تھا جس میں جھانک کر وہ مستقبل دیکھ لیتا تھا، فردوسی نے اس پیالے کو "جام جم" لکھ کر اس پر مہر ثبت کر دی، یہ شہر پسرگارد سے دو گھنٹے اور نقش رستم (نیکروپولس) سے 40 منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے۔

یہ سائرس کے بعد داریوش گریٹ یا اول نے بنایا اور کمال کر دیا، پسرگارد اس زمانے میں سلطنت کا دارالحکومت تھا، داریوش گریٹ بھی اسی میں رہتا اور حکومت کرتا تھا لیکن بعدازاں دنیا میں اس نے اپنا نقش چھوڑنے کے لیے شیراز کے مضافات میں دشت مرو میں شان دار شہر آباد کرنے کا فیصلہ کیا، یہ شہر پرشین سلطنت کا تقریباتی (سیریمونیل) دارالحکومت تھا اور یہ زگرس (Zagros) کی پہاڑیاں کاٹ کر بنایا گیا تھا، آپ جب دشت مرو میں شیراز کے قریب پہنچتے ہیں تو آپ کو سرسبز وادی کے آخری کونے میں سرخ پہاڑ ملتے ہیں۔

داریوش نے انہیں شہر میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا، اس کی سلطنت اس وقت تک 23 ملکوں تک پھیل چکی تھی، اس نے ان تمام علاقوں کے تعمیراتی ماہرین اکٹھے کیے، پہاڑ دکھائے اور انہیں توڑ کر "ری شیپ" کرکے شہر میں تبدیل کرنے کا حکم دے دیا یوں 551 قبل مسیح میں پرسی پولس کی تعمیر شروع ہوگئی، یہ شہر 518 قبل مسیح میں 33برسوں میں مکمل ہوا اور 330 قبل مسیح تک تقریباً 188 سال ایران کا تقریباتی (سیریمونیل) دارالحکومت رہا، بادشاہ اس میں سرکاری تقریبات منعقد کرتے تھے، تاج پوشی سے لے کر سفیروں سے ملاقات، جنگوں کے اعلانات اور ہرسال نوروز کی تقریبات اسی چٹانی شہر میں ہوتی تھیں۔

333 قبل مسیح میں سکندراعظم اس پر حملہ آور ہوا، داریوش سوم (دارا) کے ساتھ اس کی جنگ ہوئی، دارا کو شکست ہوئی اور سکندر اس شہر پر قابض ہوگیا، شہر کی خوب صورتی اور لوکیشن نے اس کا دل موہ لیا لیکن بعدازاں اس کے جرنیلوں نے پرسی پولس سے اسے دل برداشتہ کر دیا اور اس نے اسے جلانے اور گرانے کا حکم جاری کر دیا یوں یہ حیران کن شہر 31 دنوں میں ختم ہوگیا لیکن یہ تباہ ہونے کے باوجود دنیا میں اپنا نشان چھوڑ گیا، آج بھی دنیا بھر سے لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں اور حیرت سے ان کا منہ کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے، یہ یونیسکو کے ورلڈ ہیرٹیج میں بھی شامل ہے۔

داریوش گریٹ کے زمانے میں شیراز اقوام عالم کی گزر........

© Daily Urdu