menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pathar Ke Zamane Se AI Tak (5)

58 0
11.08.2026

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک (5)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے، مرونڈا، گگو گھوڑے، پینگ اور دھوبن، مرونڈا پھولے ہوئے چاولوں میں گڑ ڈال کر بنایا جاتا تھا، یہ کیک پیس جیسا ہوتا تھا اور بہت خستہ اور لذیذ تھا، اس زمانے کے تمام بچے اور بعض اوقات بزرگ بھی اسے انجوائے کرتے تھے، سردیوں میں تلوں کی پنیاں بھی بکتی تھیں، یہ بھی گڑ سے بنائی جاتی تھیں اور عموماً بسوں کے اڈوں اور بسوں کے اندر سے ملتی تھیں۔

گگو گھوڑے مٹی کے چھوٹے سے جانور اور ریڑھیاں ہوتے تھے، یہ کمہار برتنوں کے ساتھ پکاتے تھے اور عموماً ان کی عورتیں اور بچے گلی میں آوازیں لگا کر بیچتے تھے، یہ پیسوں کے عوض بھی ملتے تھے اور چاولوں اور گندم کے بدلے میں بھی، یہ بہت سستے ہوتے تھے، ان سے اوپر کی کوالٹی کاغذوں اور کانوں سے بنائی جاتی تھی، یہ رنگین اور دیرپا ہوتے تھے جب کہ مٹی کے گگو گھوڑے چند گھنٹوں میں ٹوٹ جاتے تھے، یہ آرٹ موہن جوڈارو سے چلا تھا اور چار ہزار سال کا سفر طے کرکے ہماری عمر تک پہنچا تھا۔

پینگیں (سوئنگ) درختوں سے رسیاں لٹکا کر بنائی جاتی تھیں، ان کی جگہ بعدازاں لوہے کے جھولے آ گئے، یہ گول ہوتے تھے، ان میں پانچ چھ چھوٹی سیٹیں لگی ہوتی تھیں اور انہیں گول گول گھمایا جاتا تھا، ان کے نیچے ٹائر لگے ہوتے تھے چناں چہ جھولے کا مالک اسے آسانی سے ایک گلی سے دوسری گلی لے جا سکتا تھا، یہ بھی آوازیں لگا کر بچوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا اور دھوبن ایک دوربین ٹائپ مشین ہوتی تھی، اس کے اندر فلم چلتی تھی، اس زمانے میں سینما کی موویز فلموں پر آتی تھیں، فلم رول کی شکل میں ہوتی تھی جو کیس میں آتی تھی، اسے ہر سینما میں پروجیکٹر پر لوڈ کیا جاتا تھا، یہ جھٹکے سے چلتی تھی، اس پر لائیٹ ڈالی جاتی تھی اور یوں وہ پردے پر دکھائی دیتی تھی، سینما سے جب فلمیں اتر جاتی تھیں تو اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے مارکیٹ میں بیچ دیے جاتے تھے۔

سٹریٹ پروجیکٹرز کے مالکان یہ خرید کر اسے گلی محلوں میں بچوں کو دکھاتے تھے، ہم شروع میں ایک آنا اور بعدازاں دو آنے دے کر یہ دیکھتے تھے، بچے دوربین سے آنکھ لگا کر گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ جاتے تھے، پروجیکٹر کا مالک ہاتھ سے ناب گھماتا تھا اور اندر پردے پر فلم چلنے لگتی تھی، یہ ہاتھ کی سپیڈ کی وجہ سے کبھی تیز اور کبھی آہستہ ہو جاتی تھی، وہ ساتھ ساتھ کمنٹری بھی کرتا جاتا تھا، کمنٹری عموماً دیکھو "دس من کی دھوبن" ہوتی تھی جس میں وہ کبھی کبھی کسی مقبول گانے کے بند بھی شامل کر دیتا تھا، ہم اسے بھی اناج اور ریز گاری دیتے تھے۔

یہ 1971ء تھا، اس زمانے میں........

© Daily Urdu