menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aik Din Zulqarnain Ke Maqbare Par

20 16
03.01.2026

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے، ان پر تازہ برف پڑی تھی، برفانی ہوائیں برف کا پنجرہ توڑ کر ہماری طرف دوڑ رہی تھیں، ہماری جیکٹس، ہمارے مفلر اڑ رہے تھے، ہم بڑی مشکل سے زمین پر پائوں جما کر کھڑے تھے اور ہمارے سامنے اس شخص کا مقبرہ تھا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بڑے احترام سے کیا، وہ مسلمانوں کے لیے ذوالقرنین، یونانیوں کے لیے سائرس اور ایرانیوں کے لیے کوروش تھا، اس کے مقبرے کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے دور دور تک میدان تھا، میدان کے آخری سرے پر پہاڑ تھے اور پہاڑوں پر تازہ تازہ برف پڑی تھی اور اس منظر میں ہم 22 لوگ سانس لے رہے تھے اور دسمبر کے آخری دنوں کی ٹھنڈ ہمارے پھیپھڑوں کو جما رہی تھی۔

سائرس ایران، فارس یا پرشیا کا پہلا بڑا بادشاہ تھا، وہ 600 قبل مسیح میں انشان(Anshan)میں پیدا ہوا، والد کا نام کم بائی سیس تھا جب کہ ماں مندانے کہلاتی تھی، انشان آج کے زمانے میں تل ملیان کہلاتا ہے اور یہ شیراز سے 46کلومیٹر کے فاصلے پر زیگرس کی پہاڑیوں میں واقع ہے، سائرس کی پیدائش سے قبل اس کے نانا سائرس اول نے خواب میں اپنی بیٹی کی کوکھ سے سیلاب اور پھر پھلوں کے باغ دیکھے، نجومیوں نے خواب کی تعبیر کرتے ہوئے بادشاہ کو بتایا، آپ کی بیٹی کی کوکھ میں اگلا بادشاہ پنپ رہا ہے، یہ آپ کی سلطنت پر قبضہ کر لے گا۔

سائرس کے نانا کی طبیعت فرعونی تھی، وہ اپنا اقتدار کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہتا تھا چناں چہ اس نے بیٹی کو بلایا اور اسے اپنے عزیز ترین جنرل ہر پاگس (Harpagus) کے حوالے کر دیا، جنرل کی ذمہ داری تھی وہ بچے کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دے گا، قصہ مختصر سائرس پیدا ہوا، جنرل اسے قتل کرنے کے لیے جنگل میں لے گیا لیکن اسے بچے کی معصومیت پر ترس آ گیا اور اس نے بچے کو قتل کرنے کی بجائے کسی چرواہے کے حوالے کر دیا یوں سائرس کی جان بچ گئی تاہم وہ چرواہوں کے درمیان پلنے لگا لیکن اس کے مزاج میں شہنشاہیت تھی لہٰذا وہ دوسروں کو حکم دیتا تھا اور جو اس کی حکم عدولی کرتا تھا اسے بادشاہ کی طرح سزا دیتا تھا، وہ یوں پل کر جوان ہوگیا، اس دوران اس کے نانا کا انتقال ہوگیا اور اس کا ماموں بادشاہ بن گیا۔

سائرس کی ماں کو معلوم تھا میرا بیٹا زندہ ہے، اس نے اسے تلاش کرنا شروع کیا اور اسے بالآخر سائرس مل گیا، وہ پورے علاقے میں چرواہا ہونے کے باوجودچرواہا نہیں تھا، اس کا اٹھنا بیٹھنا اور چلنا پھرنا بادشاہوں جیسا تھا، بہرحال وہ جوانی میں محل میں پہنچ گیاتاہم سائرس اول (سائرس کے نانا) نے جنرل ہرپاگس کے بیٹے کو بلا کر اس کے ٹکڑے کرا دیے اور اسے بیٹے کا گوشت کھانے پر مجبور کر دیا، اس کے ردعمل میں جنرل ہرپاگس بادشاہ کے خلاف ہوگیا اور اس نے بعدازاں سائرس کو بادشاہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

سائرس طویل ترین جنگوں کے بعد........

© Daily Urdu