menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Wazir e Taleem Ki Ilm Se Doori Ka Almiya

13 22
31.12.2025

میں ایک عرصے سے ہمارے نظام تعلیم کے فیک اور علم دشمن ڈیزائن پر ہونے کی بات کرتا آ رہا ہوں۔ میری آج کی یہ تحریر ایک ایسے واقعے سے متاثر ہو کر وجود میں آئی ہے جو سرسری نظر سے معمولی محسوس ہو سکتا ہے لیکن اس کی گہرائی میں ہماری اجتماعی سوچ، تعلیمی اداروں اور اخلاقی ذمہ داری کے زوال کے واضح نقوش دکھائی دے رہے ہیں۔ جب پنجاب کے وزیر تعلیم نے ایک عوامی اجتماع میں انتہائی اعتماد کے ساتھ ایک شعر کو علامہ محمد اقبال کا کلام قرار دیا اور اسے اپنا مرغوب ترین شعر بتایا، تو یہ علم یا حافظے کی معمولی سہو نہیں رہا۔ جب اس کی نسبت ہی غلط ثابت ہوگئی تو بے بحر ہونا یا اوزان سے باہر ہونے کا تو معاملہ ہی پس پشت رہ گیا۔

سماجی میڈیا پر اس کا مذاق اڑایا گیا، تو یہ واقعہ ایک علامتی حیثیت اختیار کر گیا۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں ہمارے تعلیمی نظام میں علم، تحقیق اور جوابدہی کے گرتے ہوئے معیارات کی تصویر صاف دکھائی دیتی ہے۔ زیر بحث شعر کچھ یوں ہے۔۔

داغِ سجود اگر تیری پیشانی پہ ہوا تو کیا

کوئی ایسا سجدہ بھی کرکے زمین پہ نشان رہے

یہ شعر علامہ اقبال کے کسی مستند یا تنقیدی نظر سے مرتب شدہ دیوان یعنی بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم، یا ارمغانِ حجاز میں موجود نہیں ہے۔ اقبالیات کے ماہرین بارہا اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں کہ یہ شعر ان کے کلام کا حصہ نہیں۔ پھر بھی ایک صوبائی وزیر تعلیم نے عوام کے سامنے بلا تردد اسے اقبال کی فکرکے طور پر پیش کر دیا۔

حقیقی سوال شعر کی اصل کے بارے میں نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایسی فکری بے احتیاطی کیسے اس مقام تک پہنچ گئی کہ اسے ایک عہدے کی طاقت سے اتنی خود اعتمادی کے ساتھ پیش کیا گیا؟ اور کیوں اس غلطی کو اصلاح کے لیے اداروں کی بجائے سماجی میڈیا کی طنز و تشنیع کا سامنا کرنا پڑا؟

تعلیم فقط محکمہ جاتی نظام نہیں بلکہ ایک تہذیبی ذمہ داری کا نام ہے۔ وزیر تعلیم صرف........

© Daily Urdu