menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Koi Sunta Nahi Faryad Zameen Zadon Ki

37 0
02.05.2026

کوئی سنتا نہیں فریاد زمیں زادوں کی

پاکستان اب اتنا بڑا مسائلستان بن چکا ہے کہ عوام کی شنوائی کا سسٹم کہیں نظر نہیں آتا۔ وزیر اعلیٰ یا وزہر اعظم کے لیول پر اگر کچھ نوٹس میں آگیا تو کچھ نہ کچھ ہوجاتا ہے ورنہ فریادی اور فریاد دونوں پر مٹی کی تہہ رفتہ رفتہ دبیز ہوتی چلی جاتی ہے اور ادھر سرکاری اداروں کی تباہی کسی ایک دن یا ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک مسلسل زوال کا عمل ہوتا ہے جس میں نااہلی، بدانتظامی، سیاسی مداخلت، احتساب کی کمی اور اخلاقی دیوالیہ پن رفتہ رفتہ اداروں کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے اور جب یہ عمل اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو اس کا بوجھ سب سے زیادہ عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے، یوں ریاستی مشینری کی ناکامی کی سزا عوام کو دی جاتی ہے، کبھی مہنگائی کی صورت میں، کبھی سہولیات کی کمی کی صورت میں اور کبھی ان بنیادی حقوق کی محرومی کی صورت میں جو آئین اور قانون نے انہیں دیے ہوتے ہیں۔

ملک کے ایک بڑے قومی ادارے نیشنل بینک آف پاکستان کے پنشنرز کی موجودہ حالت اسی اجتماعی ناکامی کی ایک واضح مثال ہے جہاں وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگیاں ایک ادارے کی خدمت میں گزار دیں، آج اپنے ہی جائز حق کے لیے دربدر ہیں، یہ صرف ایک مالی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی بحران ہے، ایک ایسا بحران جو یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ریاست اپنے محسنوں کے ساتھ انصاف کرنے کی اہلیت بھی رکھتی ہے یا نہیں، مبینہ طور پر عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ........

© Daily Urdu