menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Afghan Awam Ko Bhook Se Maarne Ki Policy

47 0
13.03.2026

افغان عوام کو بھوک سے مارنے کی پالیسی

افغانستان ایک بار پھر تاریخ کے اس موڑ پر کھڑا نظر آتا ہے جہاں سیاسی فیصلوں کی قیمت عام عوام کو اپنی روزمرہ زندگی سے ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد بہت سے لوگوں کو امید تھی کہ شاید جنگ زدہ ملک میں استحکام آئے گا، معیشت سنبھلے گی اور عوام کو کم از کم روٹی روزگار کا اطمینان نصیب ہوگا۔ مگر حالات کا مشاہدہ کیا جائے تو ایک مختلف اور زیادہ تشویشناک تصویر سامنے آتی ہے۔

حالیہ دنوں میں افغان تاجروں اور کاروباری نمائندوں کی جانب سے جو خدشات ظاہر کیے گئے ہیں وہ نہ صرف افغانستان کی معیشت بلکہ اس کے مستقبل کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں۔ افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ بورڈ کے رکن خان جان الکوزے نے جس طرح خبردار کیا ہے کہ ملک میں غذائی بحران پیدا ہوسکتا ہے، وہ دراصل ایک ایسے نظام کی ناکامی کی علامت ہے جو معیشت کو سمجھنے کے بجائے صرف طاقت کے بل پر چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق تاجروں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت انہیں اس بات پر مجبور کر رہی ہے کہ وہ درآمد شدہ اشیائے خورونوش کو کم قیمت پر فروخت کریں، حالانکہ وہ اشیاء مہنگے داموں درآمد کی جاتی ہیں۔

بظاہر یہ فیصلہ عوام کو سستی اشیاء فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہوگا، مگر معاشیات کے بنیادی اصول یہ بتاتے ہیں کہ اگر کسی تاجر کو اس کی لاگت سے کم قیمت پر چیز بیچنے پر مجبور کیا جائے تو وہ کاروبار جاری نہیں رکھ سکتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یا تو تجارت بند ہوجاتی ہے یا پھر اشیاء کی قلت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس کا خدشہ اس وقت افغانستان میں ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بازاروں میں اشیاء کی دستیابی........

© Daily Urdu