2025: Jang, Bhook Aur Imdadi Samaan
بلاشبہ موجودہ عالمی منظرنامہ ایک ایسا المیہ بن چکا ہے جس میں جنگ، بھوک، نقل مکانی، معاشی غیر یقینی اور موسمیاتی شدت ایک دوسرے میں اس طرح گتھ گئے ہیں کہ انسانی زندگی کی حرمت خود ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ 2025 کا سال خصوصاً اُن معاشروں کے لیے نہایت صبر آزما اور کٹھن ثابت ہوا جو پہلے ہی کمزور معیشت، کمزور ریاستی ڈھانچوں اور کمزور سماجی تحفظی نظام کا شکار تھے۔ دنیا بھر میں جاری طویل جنگوں نے جہاں انسانی جسموں کو زخموں سے چُور کیا، وہیں روحوں کو بھی مایوسی اور عدم تحفظ کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ محض چند خطوں تک محدود تنازعات نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی بحران کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس کے اثرات معاشروں کی بنیادی ساخت کو چیلنج کر رہے ہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد شاید ہی کبھی دنیا نے اتنے وسیع پیمانے پر بیک وقت اتنے زیادہ تنازعات کا سامنا کیا ہو۔ 2024 تک 61 جنگیں مختلف خطوں میں جاری تھیں اور 2025 میں ان کی شدت اور اثرات مزید بڑھ گئے۔ یہ جنگیں اب مختصر، محدود یا علاقائی نوعیت کی نہیں رہیں بلکہ طویل المدتی کشمکش میں بدل چکی ہیں جن میں ریاستی قوتوں کے ساتھ غیر ریاستی عناصر بھی پوری طرح متحرک ہیں۔ ایسے گروہ جنگی معیشت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وسائل پر قبضہ جماتے ہیں، انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور امن کی کوششوں کو بار بار سبوتاژ کرتے ہیں۔ نتیجتاً عدم استحکام ایک مستقل کیفیت بن گیا ہے، جس کے باعث لاکھوں لوگ اپنے گھروں،........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin