menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bachpan Ke Traumas Aur Waldain Ki Zimmedari

30 0
05.10.2026

بچپن کے ٹراماز اور والدین کی ذمہ داری

نفسیات کی زبان میں "ٹراما" (Trauma) سے مراد کوئی بھی ایسا شدید ذہنی یا جذباتی دھچکا ہے جو انسان کے اعصاب کو اس حد تک متاثر کرے کہ وہ خود کو غیر محفوظ، بے بس اور اندر سے ٹوٹا ہوا محسوس کرنے لگے۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ ٹراما صرف جنگوں، قدرتی آفات یا کسی ہولناک حادثے ہی کا نام ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٹراما ہماری روزمرہ زندگی، گھر کے ماحول اور رویوں کا بھی مرہونِ منت ہوتا ہے۔ خاموش تنقید، مسلسل ڈر اور گھٹن کا ماحول بھی انسان بالخصوص بچوں کے نازک ذہن پر گہرے اور ان مٹ زخم چھوڑ جاتا ہے۔

کیا یہ واقعی ہماری دنیا میں ایک سنگین حقیقت ہے؟ جی ہاں! عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ایک ارب سے زائد بچے ہر سال کسی نہ کسی قسم کے جسمانی، جذباتی یا نفسیاتی تشدد اور ٹراما سے گزرتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر آٹھ میں سے ایک شخص (تقریباً 97 کروڑ افراد) کسی نہ کسی ذہنی عارضے یا شدید اینگزائٹی کا شکار ہے۔ اگر صرف پاکستان کی بات کی جائے تو صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا چوبیس سے تیس فیصد حصہ (یعنی پانچ کروڑ سے زائد افراد) کسی نہ کسی نوعیت کے ذہنی دباؤ، اینگزائٹی اور ٹراما کا سامنا کر رہا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان میں ایک بڑی تعداد بچوں اور نوجوانوں کی ہے، جو اپنے ہی گھروں میں پنپنے والے ناخوشگوار ماحول کی وجہ سے خاموشی سے اس ذہنی بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہیں۔

کیا ایک آٹھ سالہ معصوم بچی بھی ذہنی دباؤ اور گہرے نفسیاتی بحران کا شکار ہو سکتی ہے؟ میرے ایک قریبی دوست نے مجھ سے اپنی........

© Daily Urdu