Shahenshah Babar Ka Yar Hussain Aur Swabi Ka Yar Hussain
شہنشاہ بابر کا یار حسین اور صوابی کا یار حسین
تاریخ کے صفحات میں بعض نام ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر محض ایک نام دکھائی دیتے ہیں لیکن جب ان کے پس منظر، زمانے، جغرافیے، قبائلی نقل مکانی اور تاریخی واقعات کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو وہ ایک ایسے سوال کو جنم دیتے ہیں جس کا جواب صدیوں کے فاصلے میں کہیں چھپا ہوتا ہے۔ صوابی کی بستی یار حسین بھی میرے نزدیک ایسا ہی ایک تاریخی سوال ہے کہ کیا آج سے تقریباً پانچ سو برس قبل مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے ساتھ وابستہ یار حسین بن دریا خان اور موجودہ صوابی کی بستی یار حسین کے درمیان کوئی تاریخی تعلق موجود ہے یا یہ صرف نام کی ایک غیر معمولی مماثلت ہے؟
اس سوال کا جواب ابھی حتمی طور پر ہمارے سامنے نہیں لیکن جتنے تاریخی اور جغرافیائی قرائن اب تک سامنے آئے ہیں وہ اس امکان کو ضرور قابل تحقیق بنا دیتے ہیں۔ بابر کی یادداشتوں میں یار حسین بن دریا خان کا ذکر ایک ایسے بااثر شخص کے طور پر ملتا ہے جو بھیرہ سے تعلق رکھتا تھا اور کابل میں بابر کی خدمت میں حاضر ہوا، پھر بابر کی ہندوستانی مہمات کے ساتھ وابستہ ہوا اور کوہاٹ کے مقام پر اس نے دلازاک، یوسفزئی اور گگیانی قبائل کے بارے میں بابر سے اختیار حاصل کیا۔ بابر نے اس کی درخواست منظور کی اور اسے ان قبائلی علاقوں میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کی اجازت دی۔
یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یار حسین محض بابر کی فوج کا ایک عام سپاہی نہیں تھا بلکہ وہ ایک بااثر عسکری اور سیاسی شخص تھا جسے قبائلی علاقوں کے معاملات میں اعتماد کے قابل سمجھا جاتا تھا۔ بابر کی یادداشتوں میں اس کے بعد بھی یار حسین کا ذکر مختلف واقعات میں ملتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس نے مختلف قبائل کے لوگوں کو اپنے ساتھ جمع کیا اور ایک قابل ذکر عسکری قوت پیدا کی۔ اب اگر ہم پانچ سو سال پیچھے جاکر اس زمانے کے نقشے کو ذہن میں رکھیں تو موجودہ صوابی، مردان، کوہاٹ اور دریائے سندھ کے اطراف کا وسیع علاقہ آج کی طرح الگ الگ اضلاع اور انتظامی حدود میں تقسیم نہیں تھا بلکہ قبائلی آمدورفت، نقل مکانی، آبادکاری اور سیاسی اثر و رسوخ کے اعتبار سے ایک دوسرے سے جڑا ہوا خطہ........
