menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Malik Yusuf Ke Dramay (1)

11 15
02.01.2026

ملک یوسف فرام فیصل آباد صحیح معنوں میں رنگ باز انسان تھا، گہری سانولی رنگت، بھاری بھرکم ڈیل ڈول، کھانا پکانے کا ماہر اور اس سے بھی بڑھ کر گفتار کا غازی، باتوں باتوں میں ہی بغیر کوئی پراڈکٹ دکھائے مدمقابل کو بیچنے اور اس کو یہ یقین دلانے کا ماہر تھا کہ تم کو بہت نفع ہوگا، یہ صحیح معنوں میں وہ بندہ تھا جو قطب شمالی پر فریزر سے بھرا ٹرک بیچ سکتا تھا۔ پہلے بھی سائپرس، فرانس اور برطانیہ سے ہو کر واپس آیا تھا، اب عرصہ دراز سے یونان میں سیاسی پناہ لئے بیٹھا ہے، یہ سیاسی پناہ والا کام اس نے کیسے کیا ہوگا یہ سمجھ سے بالاتر ہے لیکن بہت استاد چیز تھا، بندے کو باتوں میں شیشے میں اتار لیتا اور اپنا کام نکال کر لات مار کر خود غائب ہو جاتا تھا۔

ہوسٹل میں ہمارے کمرے کے سامنے ایک افغانی پٹھان اورنگ زیب کا کمرہ تھا، یہ عمر میں مجھ سے بڑا تھا، پچیس سے اٹھائیس سال، منحنی صحت، گال پچکے، چرسی لگتا تھا، یہ کسی دوسرے ملک سے بھی ہو کر آیا تھا، اس کے ساتھ عارف کشمیری بطور روم میٹ، عارف خود کو انڈین کشمیر کا بتاتا تھا لیکن بٹل ایریا یعنی پاکستانی کشمیر کا تھا، ساری عمر یہ بات صیغہ راز رہی کہ وہ کس خطے سے تعلق رکھتا ہے، چند سال پہلے جب اس کی فیس بک پر ایک پوسٹ دیکھی، بٹل ہسپتال میں جاب کرتے تب معلوم ہوا کہ اندر سے پکا کھلاڑی تھا، دو سال قبل خالق حقیقی سے جا ملا ہے، پاکستان اور پنجاب کو بہت گالیاں دیتا تھا، عارف سے بہت گِلے شِکوے تھے لیکن رب کی رضا کیلئے معاف کر دیا تھا۔

اورنگزیب نے مجھے پیشکش کی "تم میرے کمرے میں شفٹ ہو جاؤ اور عارف کشمیری کو نکال دیتا ہوں"۔ میں صورت حال کا معائنہ کر چکا تھا لہذا معذرت کر دی، اس کا کمرہ افغانی و پاکستانی پٹھانوں کا حجرہ تھا اور عارف اکثر بآواز بلند کُڑھتا ہی رہتا تھا، دونوں کی آپس میں بہت لڑائی ہوتی تھی، عارف کا یہ مطالبہ "تیرے مہمان ہر وقت کھانے پر آتے ہیں، میس کا بِل زیادہ بنتا ہے لہذا تم زیادہ پیسے دو، میں ہرگز ان کے کھانے کے پیسے نہیں دوں گا"۔ دونوں ہی دماغی مریض تھے، ہمارے کمرے آمنے........

© Daily Urdu