menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Centram Centram

9 1
25.12.2025

ملک یوسف نے زور دیکر میری کلین شیو کروا دی، اس کے بقول "نواجوانی کا بابر علی لگتے ہو"۔ جو بھی دیکھے یہی کہے "بہت معصوم شکل ہے"۔ جب سے ہم آئے تھے غسل کا موقع نہیں ملا تھا، لینن ہوسٹل کے پہلے فلور پر مشترکہ غسل خانے بغیر دروازے تھے یعنی جو بھی نہائے سب اس کی فلم دیکھیں، ایک قریبی مساج سنٹر میں غسل کی سہولت کا معلوم ہوا، ہوسٹل والے چوراہے سے دائیں مُڑے اور تیزی سے آتی دو لڑکیوں سے ٹکراتے بچے، یہ جان بوجھ کر سر جھکائے چلنے اور ٹکرانے والا معاملہ ہر گز نہ تھا۔

ایک لڑکی زمین پر جا گری، میں نے جھک کر اسے اٹھایا، "از وی نمسیا، از وی نمسیا" یعنی معذرت خواہ کی گردان شروع کر دی، وہ ہنس ہنس دوہری، رشین میں جانے کیا بولی، بس اتنی سمجھ آئی "ایتا مایا اوشبکا"۔ یعنی یہ میری غلطی ہے، پھر غور سے میری شکل دیکھ کر بولی "کک اُو تبیا زووُت؟" اتنی سمجھ آ گئی کہ میرا نام پوچھ رہی ہے، میں خاموش کہ یہ کیا ماجرا ہے، لڑکیوں سے چھیڑ خانی پر پٹائی کا ڈر بھی تھا، وہ ماتھے پر ہاتھ مار کر بولی "یا زابیلا"۔ یعنی میں بھول گئی، تب ازابیلا کا مطلب معلوم نہ تھا اور میں لڑکی کا نام ازابیلا سمجھا تھا، لڑکیوں نے ہمارے ہاتھوں میں تولیے دیکھ کر پوچھا "کہاں جا رہے ہو؟" اشارے سے مساج سنٹر کی طرف اشارہ کیا تو چہک کر بولی "دوائے پائیدوم ومستے"۔ یعنی "آؤ اکٹھے چلتے ہیں"۔

میرے پیچھے کھڑے ملک یوسف نے اسے اشارہ کیا کہ پکڑ لو، وہ میرے بائیں بازو میں اپنا دایاں بازو ڈال کر ساتھ چلنے کی ایکٹنگ کرنے لگی، اس کی ساتھی لڑکی میری حالت سے محظوظ ہو رہی تھی، اس نے پہلی لڑکی کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا، پھر دونوں "پکا پکا" یعنی بائے بائے بولتیں ہاتھ ہلا کر چلی گئیں، ملک یوسف مسکرائے اور میں شرمندگی والی ہنسی، ملک بولا "اس شہر میں تیرا مستقبل روشن لگتا ہے، لڑکیاں تیری معصوم شکل پسند کرتی ہیں"۔

مساج سنٹر پر جو........

© Daily Urdu