menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Afghanistan Ke Halaway Se Yaksu Hone Ki Zaroorat

10 2
previous day

دوسری جنگ عظیم میں اتحادی افواج کے ایک بڑے جرنیل منٹگمری کا ایک خوبصورت قول ہے کہ جنگ میں بہت کنفیوژن رہتا ہے، بہت سی چیزوں کا پتہ نہیں چل رہا ہوتا، مگر اسے وہی فریق جیتتا ہے جو یکسو اور فوکسڈ رہے جو اپنے کنفیوژن سے باہر آجائے۔

مجھے لگتا ہے کہ پاکستانیوں کو بھی سب سے زیادہ اسی بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم اس وقت دو تین اطراف سے پھنسے اور الجھے ہوئے ہیں۔ اسے بدقسمتی ہی کہیں کہ ہمارے مشرقی پڑوسی ہندوستان نے کبھی ہمارے وجود کو خوشدلی سے تسلیم ہی نہیں کیا۔ ہمیشہ ہمارےاوپرجنگ مسلط رکھی، کبھی کھلی جنگ کی صورت میں تو کبھی پراکسی وار کے شکل میں محاز گرم رکھا۔

دوسری طرف مغربی پڑوسی افغانستان کو بھی خدا واسطے کا بیر رہا۔ یہ واحد ملک تھا جس نے پاکستان کو اقوام متحدہ کا رکن بنانے کی مخالفت کی۔ اس کے بعد بھی افغانستان میں حاکم خواہ ظاہر شاہ جیسا کمزور بادشاہ رہا، سردار داود جیسا بزعم خود انقلابی صدر یا پھر بعد میں کمیونسٹ سوویت یونین کے آلہ کار ترکئی، حفیظ اللہ امین، ببرک کارمل اور جنرل نجیب وغیرہ، ان سب نے پاکستان کے خلاف مسلسل ریشہ دوانی جاری رکھی۔ دہشت گردوں کو سپورٹ کئے رکھا۔

نوے کے عشرے میں ایک قلیل وقت ایسا رہا جب مغربی سرحد پرسکون رہی، مگر تب بھی جو وہاں حکمران تھے، پاکستان دوستی کے دعووں کے باوجود انہوں نے بھی ڈیورنڈ لائن پر کوئی حق اور انصاف کی بات نہیں کی اور اسے متنازع بنائے رکھنے کی کوشش کی۔ جبکہ اسی دور میں افغانستان میں پاکستان کی فرقہ ورانہ دہشت گرد تنظیموں کے اہم رہنمائوں ریاض بسرا وغیرہ کو نہ صرف پناہ دی گئی بلکہ فرقہ ورانہ قتل وغارت کرنے والے دہشت گردوں کو نجانے کس اصول کے تحت مجاہد بھی قرار دیا گیا۔

نائن الیون کے بعد تو پورا منظرنامہ بدل گیا۔ نیٹو فورسز افغانستان آ کر بیٹھ گئیں، انہوں نے پہلے حامد کرزئی اور پھر اشرف غنی کو اقتدار سونپا، ان کی مکمل سپورٹ، معاونت اور سرپرستی کی۔ بدقسمتی سے ان بیس برسوں میں افغان حکومتیں مکمل طور پر بھارت کے زیراثر بلکہ زیرقبضہ چلی گئیں۔ افغان خفیہ ایجنسی کو درحقیقت بھارتی خفیہ........

© Daily Urdu