menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bahmi Etemad, Muashre Ki Rooh Aur Ijtemai Taraqi Ki Bunyad

29 0
05.06.2026

باہمی اعتماد، معاشرے کی روح اور اجتماعی ترقی کی بنیاد

دنیا کا کوئی بھی معاشرہ اعتماد کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ انسان اپنی روزمرہ زندگی میں ہر قدم پر دوسروں پر اعتماد کرنے پر مجبور ہے۔ خاندان کا نظام ہو، دوستی کا تعلق ہو، تجارت ہو، سیاست ہو یا معاشرتی زندگی کا کوئی اور شعبہ، ہر جگہ اعتماد بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر انسان ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چھوڑ دیں تو نہ صرف معاشرتی تعلقات کمزور پڑ جاتے ہیں بلکہ پوری اجتماعی زندگی انتشار اور بے یقینی کا شکار ہو جاتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے باہمی اعتماد، حسنِ ظن، امانت داری اور سچائی کو نہایت اہم قرار دیا ہے۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ میں مسلمانوں کو بار بار اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اخلاص، محبت، دیانت اور اعتماد کا رویہ اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا: "بے شک مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں"۔

یہ مختصر مگر جامع آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تعلق صرف مذہبی نہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی بھائی چارے کا ہے اور بھائی چارے کی بنیاد اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ اگر بھائی ایک دوسرے پر اعتماد نہ کریں تو نہ محبت باقی رہتی ہے، نہ اتحاد اور نہ ہی تعاون۔

رسولِ اکرم ﷺ کی پوری زندگی امانت و دیانت کی اعلیٰ مثال تھی۔ نبوت سے پہلے بھی لوگ آپ ﷺ........

© Daily Urdu