menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Taraqi Ya Tehzeebi Zawal?

39 0
12.08.2026

ہم نے ترقی کے معنی شاید بہت محدود کر دیے ہیں۔ بلند عمارتیں، جدید بازار، بڑی گاڑیاں، مہنگے موبائل، بیرونِ ملک ملازمتیں اور سب سے بڑھ کر یہ منظر کہ عورت بھی مرد کے شانہ بشانہ دفاتر، مارکیٹوں اور فیکٹریوں میں کام کرتی دکھائی دے، ہم نے شاید انہی چیزوں کو ترقی کا نام دے دیا ہے۔

بلاشبہ عورت کا تعلیم یافتہ ہونا، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا اور معاشرے میں باوقار کردار ادا کرنا ایک مثبت اور ضروری عمل ہے۔ عورت کو آگے بڑھنے کے مواقع ملنے چاہئیں، اس کی صلاحیتوں کا اعتراف ہونا چاہیے اور اسے اپنی زندگی کے فیصلوں میں اختیار بھی حاصل ہونا چاہیے۔ لیکن ایک سوال ایسا ہے جس سے ہمیں نظریں نہیں چرانیں چاہئیں۔

کیا صرف گھر سے باہر نکل آنا ہی ترقی ہے؟

اور اگر ترقی کی اس دوڑ میں ہمارے گھروں کا سکون، بچوں کی تربیت، میاں بیوی کا باہمی وقت اور خاندان کا مضبوط نظام کمزور پڑ جائے تو کیا ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہم حاصل کیا کر رہے ہیں اور کھو کیا رہے ہیں؟

یہ سوال عورت کے خلاف نہیں، بلکہ ہمارے پورے معاشرتی نظام کے سامنے ہے۔

آج کا منظر دیکھیے۔ صبح سویرے ماں بھی جلدی میں ہے اور باپ بھی۔ بچوں کو تیار کرنا، ناشتہ، اسکول، دفتر، ٹریفک، میٹنگز، کاروبار، مہنگائی اور روزگار کا دباؤ، دن کب ختم ہوتا ہے، پتا ہی نہیں چلتا۔ شام کو جب والدین گھر واپس آتے ہیں تو جسم تھکا ہوتا ہے، ذہن بوجھل ہوتا ہے اور بچوں کے لیے وقت بہت کم بچتا ہے۔

اور بچے؟ وہ خاموشی سے موبائل اٹھا لیتے ہیں۔ کبھی یوٹیوب، کبھی گیم، کبھی سوشل میڈیا اور کبھی کسی ایسی دنیا میں چلے جاتے ہیں جہاں والدین کی موجودگی کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔

ایک وقت تھا جب بچے ماں کے پاس بیٹھ کر کہانیاں سنتے تھے۔ باپ کے ساتھ بازار جاتے تھے۔ شام کو گھر کے صحن میں خاندان اکٹھا بیٹھتا تھا۔ بچے اپنے دن بھر کی باتیں والدین کو سناتے تھے اور والدین ان کی باتیں سنتے تھے۔

آج ہمارے پاس سہولتیں زیادہ ہیں، مگر وقت کم ہے۔ موبائل زیادہ ہیں، مگر گفتگو کم ہے۔ معلومات زیادہ ہیں، مگر تربیت کم ہے اور شاید یہی ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

ہم نے بچوں کی مصروفیت کا مسئلہ حل کرنے کے لیے انہیں موبائل دے دیا، مگر یہ نہیں سوچا کہ موبائل ان کے ذہن میں کیا بھر رہا ہے۔

ہم نے انہیں یوٹیوب دے دیا، مگر یہ نہیں دیکھا کہ ان کا اصل استاد کون بن گیا۔ ہم نے انہیں انٹرنیٹ دے دیا، مگر ان کے سوالات کے جواب دینے کے لیے خود ان کے پاس بیٹھنے کا وقت نہیں........

© Daily Urdu