Inhe Kis Ne Mamoor Kar Diya?
خبروں کے ایک نشریے میں عالمی اُردو کانفرنس کی رُوداد پیش کی جا رہی تھی۔ رُوداد خواں شاید اچھے اُردو داں نہیں تھے۔ وہ لفظ اَمُر، کا تلفظ بار بار اَمَر، کررہے تھے۔
"اس اَمَر کا اہتمام کیا گیا تھا" اور "یه اَمَر واضح ہوگیا"، وغیرہ وغیرہ جیسے فقرے سن سن کر ہمارا تو مزید سننے کا شوق ہی مر گیا۔
مانا کہ ہندی نشریات میں لفظ اَمَر، خوب خوب بولا جاتا ہے، مگراس وجہ سے بولا جاتا ہے کہ ہندی زبان میں اَ، حرفِ نفی ہے۔ نہ مرنے والے کو ہندی میں اَمَر، کہا جاتا ہے اور نہ ٹلنے والے کو اَٹَل۔ لیکن یہاں جس لفظ کے استعمال کا موقع تھا، وہ اَمَر نہیں اَمُر، ہے۔ میم ساکن۔ لفظ امُر، کے معنی یہاں فعل، کام، مطلب، مقصد، معاملہ یا بات کے لیے جائیں گے۔ جیسے کہ نسیمؔ نے لے ہی لیے:
غیر ممکن ہے کہ آساں ہو سکے
رہ گیا جو اَمرِ مشکل، رہ گیا
لفظِ اَمُر، اُردو میں استعمال ہونے والے اُن الفاظ میں سے ایک ہے جن کا تلفظ تبدیل ہونے سے معنی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اِملا تو ایک ہی ہے، مگر اس لفظ کا ہندی تلفظ اور ہے، عربی تلفظ اور۔ امُر، (میم پر جزم کے ساتھ) عربی تلفظ ہے۔ عربی زبان کی طرح اُردو زبان میں بھی یہ لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اوپر جو معنی دیے گئے اُن معنوں کے علاوہ اَمُرکے معنی ہیں حُکم، ارشاد، فرمان یا وہ افعال جن کے کرنے کی تاکید پائی جائے۔ حکمیہ الفاظ بھی فعلِ امُر کہلاتے ہیں۔ مثلاً آؤ، جاؤ، کھاؤ اور نہاؤ وغیرہ۔
امر بالمعروف، سے تو سب ہی واقف ہیں۔ ہر شرعی حکم کو اَمُر، کہا جاتا ہے۔ امُر کی جمع اُمور، ہے، خواہ وہ شرعی اُمور، ہوں یا اُمورِ مملکت۔........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin