Haan Dekh Ke Chal, Dekh Ke Chal, Kehte Rahein Ge
ہاں دیکھ کے چل، دیکھ کے چل، کہتے رہیں گے
دوسروں پر کیوں الزام دھریں؟ ہمارے اپنے ملک میں اُردو زبان کے حُلیے کاہمہ گیر بگاڑ ہمارے اپنے ذرائع ابلاغ کے کرتوتوں کا شہکار ہے۔ سب اس میں شریک ہیں، خواہ مطبوعہ ذرائع ابلاغ ہوں، برقی ذرائع ابلاغ ہوں یا سماجی ذرائع ابلاغ۔ پھراس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جب ذرائع ابلاغ کی زبان بگڑتی ہے تو اُن لوگوں کی زبان بھی بگڑ جاتی ہے جن تک اس زبان کا ابلاغ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ کی زبان کے بگاڑ پر مزید گفتگو سے پہلے، بتاتے چلیں کہ اُردو کے ادبی رسائل و جرائد، نصابی کتب اور شعری و ادبی تصانیف میں زبان کے بگاڑ کا تناسب آج بھی وہی ہے جوپہلے تھا۔ بھلاکب نہیں کہا گیا کہ "زباں بگڑی تو بگڑی تھی"۔
صاحبو! زبان و بیان کی غلطیاں ہر دور کے لوگوں سے سرزد ہوتی رہی ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو سیمابؔ اکبر آبادی کی کتاب "دستور الاصلاح" سے لے کر پروفیسر آسی ضیائی کی "درست اُردو"، طالب الہاشمی کی "اصلاحِ تلفظ و املا" اور ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی "صحت زبان" تک بے شمار کتب وجود میں نہ آئی ہوتیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جو اَکابر زبان و بیان پر سند تسلیم کیے جاتے تھے، وہ بھی ایک دوسرے کی پونچھ پکڑتے پھرتے تھے۔ مولانا ماہرؔ القادری جہاں دوسروں کی اغلاط کی نشان دہی کرتے تھے وہیں اپنی غلطیوں کااعتراف بھی بر سرِ تحریر کر لیا کرتے تھے کہ غلطیوں سے مبرا کوئی نہیں۔ مولاناکا اعتراف اُن کی کتاب "قلمی معرکے"، باب "توجیہ و وضاحت" میں "غلطیاں" کے عنوان کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔ مولانا ماہرؔ القادری نے تو جوشؔ ملیح آبادی جیسے مشاق ماہرزبان کی فاش اور فحش غلطیاں بھی پکڑ لیں اور دلچسپ انداز میں ان کی نشان دہی کی۔........
