Behooda Viral Culture, Views Ki Daur Aur Iqdar Ka Bohran
بے ہودہ وائرل کلچر، ویوز کی دوڑ اور اقدار کا بحران
سوشل میڈیا کے اس تیز رفتار دور میں شہرت اب محنت، علم یا کردار کی مرہونِ منت نہیں رہی، بلکہ چند لمحوں کی ویڈیو، کوئی لایعنی اور غیر اخلاقی حرکت یا چونکا دینے والا انداز کسی کو بھی راتوں رات "وائرل" بنا سکتا ہے۔ وائرل ہونے کی یہی ہوس اب ایک خطرناک رجحان اختیار کر چکی ہے، جس میں اسلامی تعلیمات، اخلاقی حدود، معاشرتی اقدار اور سنجیدگی سب کچھ پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایک خاتون صحافی کے غیر مناسب لباس اور ایک مارننگ شو کی میزبان کی ٹی وی اسکرین پر نازیبا حرکات پر ہونے والی عوامی تنقید اسی وسیع تر مسئلے کا شاخسانہ ہے۔ یہ معاملہ محض ان دو افراد تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں، ترجیحات، فکری زوال اور سطحی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
سوشل میڈیا نے اظہار کی آزادی تو دی، مگر اس کے ساتھ ایک ایسی بے لگام فضا بھی پیدا کر دی ہے جہاں "زیادہ دیکھا جانا" ہی کامیابی کا واحد معیار بن گیا ہے، چاہے مواد کتنا ہی منفی کیوں نہ ہو۔ اس دوڑ میں کچھ لوگ شعوری اور کچھ لاشعوری طور پر ایسے رویے اپنا رہے ہیں جو نہ صرف ان کی اپنی شخصیت کو مسخ کرتے ہیں بلکہ پورے معاشرے پر زہریلے........
