menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Nai Israeli Security Doctrine

27 0
23.10.2026

نئی اسرائیلی سیکیورٹی ڈاکٹرائن

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک مقام پر گفتگو کرتے ہوئے امریکا و اسرائیل کی گہری دوستی کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے کہا کہ امریکی عوام کا اسرائیل کے بارے میں نقطہ نظر بدل رہا ہے اور اسرائیل امریکی عوام میں اپنی حمایت کھو رہا ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے عوام پر جو ظلم و ستم ڈھائے ہیں اور جس طرح معصوموں کے قتلِ عام کا ارتکاب کیا ہے اس سے پورے مغرب میں اسرائیل اور خاص کر نتن یاہو کی حکومت کے بارے میں بہت منفی تاثر ابھرا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ غزہ کے دکھی مظلوموں کے حق میں کئی ایک امریکی یونیورسٹیوں کے طلباء نے مار کھا کر بھی احتجاجی کیمپس لگائے۔

اسی طرح لندن اور دوسرے یورپی دارالحکومتوں میں بھی ریلیاں نکالی گئیں۔ مسلمان ممالک میں تو کوئی قابلِ ذکر احتجاج نہیں ہوا لیکن پورا مغرب سراپا احتجاج بنا رہا۔ مغرب میں لوگ آہستہ آہستہ یہودی کریکٹر سے آگاہ ہو رہے ہیں لیکن یہ کوئی نیا Phenomenon بھی نہیں ہوگا۔ اگر تاریخ پر نگاہ دوڑائی جائے تو یورپ کا شاید ہی کوئی ملک ہو جہاں سے یہودیوں کو نہ نکالا گیا ہو۔ مغرب اب بھی خائف ہے کہ اسرائیلی ریاست اگر ناکام ہوئی تو یہودی ایک بار پھر یورپ کا رُخ کریں گے اور یہ مغرب کو منظور نہیں۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر پورا مغرب مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی ریاست کی پشت پر کھڑا ہے۔

یہودی بہت شاطر ہیں اور بہت دور کی سوچتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں اسرائیل کے ایک چوٹی کے تھنک ٹینک کے اہم رکن میجر جنرلHeyson ہیسن نے ایک آرٹیکل لکھ کر آیندہ آنے والے دنوں میں اسرائیل کی جنگ اور سیکیورٹی کے حوالے سے نئی ڈاکٹرائن کے خدوخال واضح کیے ہیں۔ میجر جنرل ہیسن کی رائے میں مشرقِ وسطیٰ میں صرف ایک ملک ہے جہاں جمہوریت ہے، جو ایک مکمل نیشن اسٹیٹ ہے اور وہ ملک اسرائیل ہے۔ میجر جنرل ہیسن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اردگرد مشرقِ وسطیٰ میں کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جو نیشن اسٹیٹ کی تعریف پر پورا اترتا ہو۔

ہیسن کے مطابق اکثر عرب ممالک یا تو مختلف قبائل کا مجموعہ ہیں، یاپھر یہ ممالک ایک لسانی گروہی اکائی ہیں۔........

© Daily Urdu