menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

5 Baron Ki Baithak

12 1
05.01.2026

تحریک انصاف جس بند گلی میں داخل ہو چکی ہے، اس کا واحد حل مذاکرات ہیں، وہی مذاکرات جس کی کوششیں تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے ہو رہی ہیں، یہ کوششیں اسی صورت کامیاب ہوں گی جب تحریک انصاف کی قیادت، سوشل میڈیا کھلاڑی اور سیاسی ورکرز اپنے دلوں میں نرمی پیدا کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی اس مہم کا بھی بائیکاٹ ضروری ہے جو سوشل میڈیا پلیئرز کر رہے ہیں، ایسی انارکی اور انتشار سے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اعلان لاتعلقی کرے، مذاکرات کی کامیابی اور اسیرانِ محبت کی رہائی اسی صورت ممکن ہے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیہ جس میں آٹھ فروری کو شٹر ڈائون ہڑتال کی کال دی گئی ہے، بھی اسی صورت میں کامیاب ہوگا جب ناراض قیادت اپنے دلوں میں نرمی لائے گی اور تحمل اور برداشت بھی۔ مسئلہ صرف عمران خان یا تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نہیں بلکہ بنیادی مسئلہ حکومت وقت بھی ہے، فارم پینتالیس ہو یا پھر سینتالیس، اب تو یہ موضوع اہم نہیں رہا، حکومت بن چکی، اقتدارمیں آنے والے اپنی کرسیوں پر بیٹھے بادشاہت کے مزے لوٹ رہے ہیں، اب آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اگر تحریک انصاف کو اب بھی یہ لگتا ہے کہ ہمارے شور مچانے، احتجاج کرنے، سوشل میڈیا پرگالم گلوچ کرنے یا پھر ریاست کے خلاف پراپیگنڈا کرنے سے سسٹم ٹھیک ہو جائے گا، الیکشن دوبارہ ہو جائیں گے اور ہمارامینڈیٹ ہمیں واپس مل جائے گا تو یہ خام خیالی کے سوا کچھ........

© Daily Urdu