menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Baba Haider Zaman

19 0
05.01.2026

بابا حیدر زمان ہزارہ کے انوکھے پیس تھے۔ پیشے کے سیاست دان تھے، عقائد کے سلفی، تکلم میں مولا جٹ، نشت میں کھردرے، برخاست میں ریشم، بولنے کے اتنے بولڈ کہ ایکسلیریٹر سے پاؤں اٹھائے بغیر کئی کئی دھوتیاں بغیر آسرے کے کھول کے رکھ دیتے۔

باباجی نے تحریک صوبہ ہزارہ کو ہوا دی اور وہ ہوا اتنی زور پکڑ گئی کہ ہمارے ہزارہ کے ٹھنڈے لوگ جنھیں نہ تو بھٹو جوش دلا پایا تھا، نہ ہی جمعیتِ، نہ جماعت اسلامی، نہ نواز شریف، حتی کہ عمران خان بھی ان کا کچھ بگاڑنے میں ناکام رہا یک دم بھڑک اٹھے ایسے بھڑکے کہ پورا ہزارہ ڈویژن شعلہِ جوالا بن گیا تھا، ہزارہ کے بڑے بڑے سیاسی ستون باوجود اختلاف کے بابا جی کے چرنوں میں بیٹھنے پر مجبور ہو گئے۔

مگر تحریک کو جانشین تھوڑے کمزور نصیب ہوئے مگر صوبہ ہزارہ کہ تحریک آج بھی ہزارہ کی مٹی میں ٹھنڈے ٹھار انگارے کی صورت "سلگ" رہی ہے۔

باباجی صوبہ ہزارہ کو الگ صوبہ بنانے کے بڑے دلچسپ جواز دیتے تھے مگر ان پر غالب پشاور میں ہزارے والوں سے برتا گیا تعصب تھا اور دوسرا صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے اس کو خیبر پختونخوا رکھنا تھا۔ جس سے بابا جی کے نزدیک ہزارہ کی شناخت اور پہچان پر سخت چوٹ پڑتی تھی۔

جھاری........

© Daily Urdu (Blogs)