menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aeene, Chehre Aur Ghubar e Maslihat

25 0
09.10.2026

آئینے، چہرے اور غبارِ مصلحت

​ایک مدت ہوئی ہم نے اپنے گھروں کی دیواروں پر سجے آئینوں سے گفتگو نہیں کی۔ ہم روز ان کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، لباس کی شکنیں درست کرتے ہیں، چہرے کی جھریاں چھپانے کے لیے نئے رنگ تراشتے ہیں اور خود کو ایک اطمینان بخش مسکراہٹ سونپ کر دنیا کے بازار میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سب تو ظاہر کی نمائش ہے۔ کبھی ہم نے رک کر اس آئینے سے یہ سوال نہیں کیا کہ مٹی کے اس پیکرکے اندر جو انسان چھپا بیٹھا ہے، اس کا خدوخال کیسا ہے؟ اس کا رنگ کتنا نکھرا ہے یا اس پر مصلحتوں کی کتنی دھول جم چکی ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ ہم دنیا کو اپنا وہ چہرہ دکھانے میں اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ خود اپنے ہی "عکسِ دروں" سے خوف آنے لگا ہے۔

​باطن کا یہ آئینہ بڑا بے مروت ہوتا ہے۔ یہ نہ تو منصب دیکھتا ہے، نہ خاندانی جاہ و جلال اور نہ ہی سفیدی مائل خوبصورت لباس۔ یہ انسان کو بالکل ویسا ہی دکھاتا ہے جیسا وہ خدا کی نظر میں یا اپنے تنہا ترین لمحات میں ہوتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ظاہر اور باطن کے درمیان ایک گہری خلیج حائل ہو چکی ہے۔ ہم محفلوں میں بیٹھ کر عدل و انصاف کی........

© Daily Urdu (Blogs)