menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Safar Se Zafar Tak

9 0
yesterday

بچپن کی حسیں یادوں سے فرار ممکن نہیں۔ یہ جملہ کہنے لکھنے میں جتنا سادہ ہے اپنے اندر اتنی ہی گمگھیرتا اور پچیدہ نفسیات رکھتا ہے۔ باباجی اشفاق صاحب فرمایا کرتے تھے کہ بڑھاپے میں صبح کا کھایا یاد نہیں رہتا لیکن ماضی کے واقعات اپنی پوری جزیات سے یاد آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ تو پہلی مشکل اس جملے کی یہی ہے کہ یوں لگتا ہے پیرانہ سالی اپنی جوانی کو پہنچ رہی ہے۔ بچپن میں سکول کی چھٹیوں میں نانی کے گھر جانا یا والد محترم کی پوسٹنگ کے دوران ریل سے ایک شہر سے دوسرے شہر جانا ہی سفر سمجھتا جاتا تھا یہ تو صحرا نووردی کا فیض ہے کہ سفر کی دیگر اقسام، نوع، خواص، ہئیت، مقصد اور سفر کی درکار ضروریات کا ادراک ہونا شروع ہوا۔

سفر محض جگہ کی تبدیلی یا قدموں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ اٹھنا نہیں، بلکہ انسان کے اندر چلنے والی ایک خاموش مسافت بھی سفر ہی ہے۔ کبھی راستے باہر طے ہو رہے ہوتے ہیں اور مسافر اندر سفر کر رہا ہوتا ہے، کبھی ہم کھڑکی کے در یا دورازے کے کواڑ باہر کھولتے ہیں لیکن راستہ اپنے ہی اندر کھلتا ہے۔ کبھی ہم گھر سے نکلتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ منزل کسی شہر، کسی مقام یا کسی کنارے پر ہے، مگر سفر آہستہ آہستہ اسے یہ راز بتاتا ہے کہ اصل منزل شاید وہ شخص ہے جو سفر کے اختتام پر اس کے بھیتر پیدا ہوگا۔ ہر سفر اپنے ساتھ ایک سوال لے کر آتا ہے اور ہر راستہ انسان کو اس سوال کے جواب کے کچھ اور قریب کر دیتا ہے۔

بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ چاہے سو میل کا سفر ہی درپیش ہو ہمیشہ پہلے قدم سے شروع ہوتا ہے۔ سفر کے لئے نکلنے کی شرط لازم ہے۔ اپنے گھر سے نکلنا، اپنے شہر سے نکلنا، اپنے کمفرٹ زون سے نکلنا یا چاہے اپنی ذات سے نکلنا۔ جب انسان اپنے مانوس دائرے........

© Daily Urdu (Blogs)