Do Bhai Aur Yemeni Mandi Ka Thaal
دو روز قبل جب امارات اور سعودی تنازعے کی خبریں سامنے آئیں تو میرے لیے حیرانی کی بات نہیں تھی البتہ سعودی وزارت خارجہ کے امارات بابت لب و لہجے و تلخ پیغام سے ہمارے ہاں کئیوں کا ماتھا ٹھنکا کہ ارے اب یہ کیا ہو رہا ہے۔ امارات کو ہمارے ہاں سعودیہ کا چھوٹا سمجھا جاتا رہا ہے اور یہ کوئی ایسا غیر حقیقی بھی نہیں۔ تاہم تاریخ یہی بتاتی ہے کہ مفادات کا ٹکراؤ ریاستوں کا دھارا بدل دیتا ہے۔
پچھلی تین دہائیوں سے مڈل ایسٹ سعودی ایرانی پراکسی وار کا میدان بنا رہا ہے۔ ایرانی ریجیم نے عرب دنیا میں شیعت پھیلانے کی کوشش کی یا سعودی ریجیم نے وہابیت، یہ بحث بے سود ہے البتہ ایک ننگا سچ سامنے ہے اور وہ یہ کہ مذہبی تضاد کا چوغہ اوڑھے یہ دو ریاستیں اپنے مفادات کے تحفظ اور اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کی جنگ میں ایک دوسرے سے پراکسیز کے ذریعہ نبرد آزما رہیں جس کا خمیازہ شام تا پاکستان، عرب تا عجم بستے لاکھوں کلمہ گو مسلمانوں نے بھگتا۔ لشکروں کے لشکر ایک دوسرے کی گھات میں اُتارے گئے۔ ایران نواز زینبیون، فاطمیون،........
