menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kya Aurat Farishton Ki Phitkar Ki Haqdar Hai?

13 0
previous day

کیا عورت فرشتوں کی پھٹکار کی حقدار ہے؟

عورت بات نہ مانے تو خاوند سے مار اور فرشتوں سے پھٹکار کی حقدار ہے!

رسول کریمﷺ نے فرمایا: "جب مرد بیوی کو بستر پر بلائے، وہ انکار کرے اور شوہر غصے میں رات گزارے، تو فرشتے عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے ہیں" (بخاری)۔ جہاں یہ فرمان رشتوں کی نزاکت کا احساس دلاتا ہے، وہیں اس کا ایک گہرا اور اہم ترین رخ اس کے پیچھے چھپا شوہر کا کمالِ ضبط، صبر اور مروت ہے۔ وہ کیسے۔۔ آئیں اس حقیقت کو سمجھتے ہیں۔

آج مغرب میں اور ہمارے ہاں پاکستان کے جدید حلقوں میں "میریٹل ریپ" (Marital Rape یعنی ازدواجی زندگی میں زبردستی) پر جو اتنا شور مچ رہا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ مرد اپنے غصے اور جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا۔ مغرب کے اس قانون کے پیچھے چند اہم نکات کام کر رہے ہیں:

اول یہ کہ وہاں شادی کو صرف ایک قانونی معاہدہ مانا گیا ہے جس میں کسی بھی وقت مرضی کا نہ ہونا جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

دوم یہ کہ وہاں مرد کو کنٹرول کرنے کے لیے صرف بیرونی سزاؤں پر انحصار کیا گیا ہے۔

سوم یہ کہ یہ قانون صرف نقصان پہنچنے کے بعد حرکت میں آتا ہے، لیکن بند کمرے کے اندر مرد کے حیوانی غصے اور زعمِ مردانگی کو اندر سے لگام دینے میں مکمل ناکام ہے۔

چودہ سو سال پہلے رسول کریمﷺ نے اس حدیث کے ذریعے مرد کے اسی حیوانی رویے کی جڑ کاٹ دی تھی۔ شریعت مرد کو یہ سکھاتی ہے کہ رات کی تنہائی میں جب بیوی کی طرف سے کسی بھی وجہ سے انکار کا سامنا ہو، تو اپنی طاقت کے زعم میں وحشی بن کر قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے اپنے نفس پر پہرا دو۔ جب مرد اپنی طاقت کے باوجود کمالِ ضبط کا مظاہرہ کرتا ہے اور وحشت سے کوسوں دور رہتا ہے، تو وہ اپنی جسمانی برتری کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھاتا۔ وہ رات بھر خاموشی سے کروٹیں بدلتا رہتا ہے، کڑھتا ہے، بستر کے کونے نوچتا ہے، مگر زبردستی نہیں کرتا۔ مرد کا اپنی ہی چار دیواری میں اپنی جسمانی طاقت پر یہ قابو پا لینا ہی دراصل وہ جہادِ اکبر ہے جس کا مطالبہ دین اس سے کرتا ہے۔

یہ اخلاقی سفر صرف بند کمرے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ جب معاملہ شریعت کی اصطلاح میں "نشوز" یعنی عورت کی کسی سرکشی یا نافرمانی تک جا پہنچے، تب بھی قرآنِ پاک مرد کو وحشی بننے یا گھر کا تماشہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔

قرآنِ پاک کا فرمان ہے: (اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو، تو انہیں سمجھاؤ اور انہیں بستروں میں اکیلا چھوڑ........

© Daily Urdu (Blogs)